مسئلہ ۱: گلے میں چند رگیں ہیں ان کے کاٹنے کو ذَبح کہتے ہیں اور اس جانور کو جس کی وہ رگیں کاٹی گئیں ذبیحہ اور ذِبح کہتے ہیں۔ یہاں ذال کو زیر ہے اور پہلی جگہ زبر ہے۔ (1)
مسئلہ ۲: بعض جانور ذبح کیے جاسکتے ہیں بعض نہیں۔ جو شرعاً ذبح نہیں کیے جاسکتے ہیں ان میں یہ دو۲ مچھلی اور ٹڈی بغیر ذبح حلال ہیں اور جو ذبح کیے جاسکتے ہیں وہ بغیر ذکاۃ شرعی حلال نہیں۔(2)(درمختار) ذکاۃ شرعی کا یہ مطلب ہے کہ جانور کو اس طرح نحر یا ذبح کیا جائے کہ حلال ہو جائے۔
مسئلہ ۳: ذکاۃ شرعی دو قسم ہے۔۱ اختیار ؔ ی اور ۲ اضطرا ؔ ری۔ ذکاۃ اختیاری کی دو۲ قسمیں ہیں۔ ۱ذبح ؔ اور، ۲نحرؔ ۔ ذکاۃاضطراری یہ ہے کہ جانور کے بدن میں کسی جگہ نیزہ وغیرہ بھونک کر خون نکال دیا جائے اس سے مخصوص صورتوں میں جانور حلال ہوتا ہے جو بیان کی جائیں گی۔ حلق کے آخری حصہ میں نیزہ وغیرہ بھونک کر رگیں کاٹ دینے کو نحر کہتے ہیں۔ ذبح کی جگہ حلق اور لبہ کے مابین ہے لبہ سینہ کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں۔ اونٹ کو نحر کرنا اور گائے بکری وغیرہ کو ذبح کرنا سنت ہے اور اگر اس کا عکس کیا یعنی اونٹ کو ذبح کیا اور گائے وغیرہ کو نحر کیا تو جانور اس صورت میں بھی حلال ہو جائے گا مگر ایسا کرنا مکروہ ہے کہ سنت کے خلاف ہے۔(3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴: عوام میں یہ مشہور ہے کہ اونٹ کو تین جگہ ذبح کیا جاتا ہے غلط ہے اور یوں کرنا مکروہ ہے کہ بلا فائدہ ایذا دینا ہے۔
مسئلہ ۵: جو رگیں ذبح میں کاٹی جاتی ہیں وہ چار ہیں۔۱حلقو ؔ م یہ وہ ہے جس میں سانس آتی جاتی ہے، ۲ مریؔ اس سے کھانا پانی اوترتا ہے ان دونوں کے اغل بغل اور دو رگیں ہیں جن میں خون کی روانی ہے ان کو ؔ۳، ۴ود جین کہتے ہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۶: پورا حلقوم(5)ذبح کی جگہ ہے یعنی اوس کے اعلی،اوسط، اسفل جس جگہ میں ذبح کیا جائے جانور حلال ہوگا۔
آج کل چونکہ چمڑے کا نرخ زیادہ ہے اور یہ وزن یا ناپ سے فروخت ہوتا ہے اس لیے قصاب(6)اس کی کوشش کرتے ہیں کہ