Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
311 - 357
    حدیث ۶: ترمذی نے ابوالدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے  روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مجثمہ کے کھانے سے منع فرمایا۔ مجثمہ وہ جانور ہے جس کو باندھ کر تیر مارا جائے اور وہ مر جائے۔ (1)

    حدیث ۷: ابو داودنے ابن عباس و ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے شریطۃالشیطان سے ممانعت فرمائی یہ وہ ذبیحہ ہے جس کی کھال کاٹی جائے اور رگیں نہ کاٹی جائیں اور چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ مر جائے۔ (2)

    حدیث ۸: صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی کہ لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہاں کچھ لوگ ابھی نئے مسلمان ہوئے ہیں اور وہ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں ہمیں معلوم نہیں کہ اﷲ(عزوجل)کا نام اونھوں نے ذکر کیا ہے یا نہیں، فرمایا کہ'' تم بِسْمِ اﷲکہو اور کھاؤ'' (3)یعنی مسلم کی ذبیحہ میں اس قسم کے احتمالات نہ کیے جائیں۔ 

    حدیث ۹: صحیح مسلم میں شداد بن اوس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے  مروی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ'' اﷲ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز میں خوبی کرنا لکھ دیا ہے لہٰذا قتل کرو تو اس میں بھی خوبی کا لحاظ رکھو (یعنی بے سبب اوس کو ایذا مت پہنچاؤ)اور ذبح کرو تو ذبح میں خوبی کرو اور(4)اپنی چھری کو تیز کر لے اور ذبیحہ کو تکلیف نہ پہنچائے۔''(5)

    حدیث ۱۰: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے چوپایہ یا اس کے سوا دوسرے جانور کو باندھ کر اوس کو تیر سے قتل کرنے کی ممانعت فرمائی۔ (6)

    حدیث ۱۱: صحیحین میں اونھیں سے مروی نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اوس پر لعنت کی جس نے ذی روح کو نشانہ بنایا۔ (7)

    حدیث ۱۲: صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جس میں روح ہو اوس کو نشانہ نہ بناؤ۔ ''(8)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ماجاء في کراھیۃ أکل المصبورۃ،الحدیث:۱۴۷۸،ج۳،ص۱۵۰.

2۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب في المبالغۃ في الذبح،الحدیث:۲۸۲۶،ج۳،ص۱۳۷.

3۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب التوحید،باب السوال باسماء اللہ تعالی ا ...إلخ،الحدیث:۷۳۹۸،ج۴،ص۵۳۹.

4۔۔۔۔۔۔غالباًیہاں عبارت''تم میں کوئی'' متروک ہے۔...علمیہ 

5۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الصید...إلخ،باب الأمر بإحسان الذبح والقتل...إلخ،الحدیث:۵۷۔(۱۹۵۵)،ص۱۰۸۰.

6۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح والصید،باب ما یکرہ من المثلۃ...إلخ،الحدیث:۵۵۱۴،ج۳،ص۵۶۳.

7۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الصید...إلخ،باب النھی عن صبرالبھائم،الحدیث:۵۹۔(۱۹۵۸)،ص۱۰۸۱.

8۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،الحدیث:۵۸۔(۱۹۵۷)،ص۱۰۸۱.
Flag Counter