حدیث ۲: صحیح بخاری و مسلم میں رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں میں نے عرض کی یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ہمیں کل دشمن سے لڑنا ہے اور ہمارے پاس چھری نہیں ہے کیا ہم کَھپَچِّی (1)سے ذبح کرسکتے ہیں فرمایا:''جو چیز خون بہا دے اوراﷲ(عزوجل)کا نام لیا گیا ہو اوسے کھاؤ سوا دانت اور ناخن کے(جو جدانہ(2)ہوں)اور اسے میں بتاتا ہوں دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اور غنیمت میں ہم کو اونٹ اور بکریاں ملی تھیں اون میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا ایک شخص نے اوسے تیر مار کر گرا دیا حضورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ان اونٹوں میں بعض اونٹ وحشی جانوروں کی طرح ہو جاتے ہیں جب تم کو اوس پر قابو نہ ملے تو اوس کے ساتھ یہی کرو۔''(3)
حدیث ۳: صحیح بخاری شریف میں کعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ان کی بکریاں سلع (مدینہ منورہ میں ایک پہاڑی کا نام ہے)میں چرتی تھیں لونڈی (جو بکریاں چراتی تھی)اوس نے دیکھا کہ ایک بکری مرنا چاہتی ہے اوس نے پتھر توڑ کر اوس سے ذبح کر دی اونھوں نے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے دریافت کیا حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اوس کے کھانے کا حکم دے دیا ۔ (4)
حدیث ۴: ابو داود و نسائی نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں میں نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )یہ فرمایئے کسی کو شکار ملے اور اوس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا پتھر اور لاٹھی کیکَھپَچِّی سے ذبح کرسکتا ہے فرمایا:'' جس چیز سے چاہو خون بہا دو اوراﷲ (عزوجل)کا نام ذکر کرو۔'' (5)
حدیث ۵: ترمذی و ابو داود و نسائی ابو العشراء اور وہ اپنے والد سے راوی اونھوں نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کیا ذکاۃ (ذبح شرعی)حلق اور لبہ(6)ہی میں ہوتی ہے فرمایا:''اگر تم اوس کی ران میں نیزہ بھونک دو تو بھی کافی ہے۔ ذبح کی یہ صورت مجبوری اور ضرورت کی حالت میں ہے ''جیسا کہ ابو داود و ترمذی نے بھی اس کی تصریح کی ہے۔ (7)