| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
کو دے دیں تو معلم مالک ہو جائے گا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: خربزہ یا تربز کی پالیز(2)مالک نے پھل توڑنے کے بعد چھوڑ دی اگر چھوڑنے کا یہ مقصد ہے کہ جس کا جی چاہے وہ باقی پھلوں کو لے جائے تو لوگوں کو اوس کے پھل لینا جائز ہے جیسا کہ عموماً آخر فصل میں ایسا کیا کرتے ہیں۔ اسی طرح کھیت کٹنے کے بعد جو کچھ بالیں یا دانے گرتے ہیں اگر مالک نے لوگوں کے لیے چھوڑ دیے تو لینا جائز ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: عامل پر لازم ہے کہ اپنے کو حرام سے بچائے مثلاً باغ کے درخت خشک ہوگئے تو اُن کا جلانا عامل کے لیے جائز نہیں۔ یوہیں سوکھی شاخیں توڑ کر ان سے کھانا پکانا جائز نہیں یوہیں چھپر تُھنیاں(4)اور اس کے بانس پھونس کو جلانا جائز نہیں۔ یوہیں مہمان یا ملاقاتی آجائے توپھلوں سے اوس کی تواضع جائز نہیں ان سب میں مالک کی اجازت درکار ہے۔ (5)(عالمگیری)ذبح کا بیان
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیۡرِ وَمَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللہِ بِہٖ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوۡذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیۡحَۃُ وَمَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمْ ۟ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنۡ تَسْتَقْسِمُوۡا بِالۡاَزْلَامِ ؕ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ؕ)
(6)
''تم پر حرام ہے مردار اور خون اور سوئرکا گوشت اور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور جو گلا گھونٹنے سے مرجائے اور دب کر مرا ہوا یعنی بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا ہو اور جس کو کسی جانور نے سینگ مارا ہو اور جس کو درندہ نے کچھ کھا لیا ہو مگر وہ جنھیں تم ذبح کر لو اور جو کسی تھان (7)پر ذبح کیا گیا ہو اور تیروں سے تقدیر کو معلوم کرنا یہ گناہ کا کام ہے۔''ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ،الباب الثانی فی المتفرقات،ج۵، ص۲۸۲. 2۔۔۔۔۔۔خربوزہ یاتربوز کی فصل۔ 3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ،الباب الثانی فی المتفرقات،ج۵، ص۲۸۲،۲۸۳. 4۔۔۔۔۔۔وہ لکڑی جوچھپر کے نیچے سہارا دینے کے لیے لگاتے ہیں۔ 5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ،الباب الثانی فی المتفرقات،ج۵، ص۲۸۳. 6۔۔۔۔۔۔پ۶،المائدہ:۳. 7۔۔۔۔۔۔امام ابن جریرطبری نے ابن جریج اور مجاہدرحمۃ اللہ تعالٰی علیھماسے نقل کیاہے کہ نُصُب(تھان)وہ پتھر ہیں جو زمانہء جاہلیت میں کعبہ کے اردگرد مشرکین نے نصب کر رکھے تھے ان کی تعداد تین سو ساٹھ تھی،اہل عرب ان کے سامنے جانور ذبح کرتے اور بیت اﷲ سے متصلبتوں پر ان کا خون چھڑکتے اور گوشت کاٹ کر ان بتوں پرچڑھاوا چڑھاتے تھے۔ (تفسیرطبری،پ۶،المائدہ تحت الآیۃ:۳،ج۴،ص۴۱۴) اورمفتی نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃاﷲ الھادی خزائن العرفان میں فرماتے ہیں:''اہل جاہلیت نے کعبہ شریف کے گردتین سوساٹھ پتھر (بت) نصب کیے تھے جن کی وہ عبادت کرتے اوران کے لیے ذبح کرتے تھے اوراس ذبح سے ان کی تعظیم وتقرب کی نیت کرتے تھے''۔ (خزائن العرفان، پ۶، المائدۃتحت الآیۃ۳،حاشیۃ۱۳)