ہو تو توڑ کر تقسیم کر لیں یا ورثہء عامل کو اون کے حصہ کی قیمت دے دے یا خود اپنے صرفہ سے کام کرائے اورطیار ہونے کے بعد صرفہ(1)اون کے حصہ سے منہا (2)کر کے باقی پھل اون کو دے دے۔ (3)(ہدایہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: دو شخص باغ میں شریک ہیں ایک نے دوسرے کوبطور معاملہ دے دیا یہ معاملہ فاسد ہے جب کہ عامل کو نصف سے زیادہ دینا قرار پایا اور اس صورت میں دونوں نصف نصف تقسیم کر لیں اور اگر یہ شرط ٹھہری ہے کہ دونوں نصف نصف لیں گے تو معاملہ جائز ہے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: دو شخصوں کو معاملہ پر دیا اور یہ ٹھہرا کہ تینوں ایک ایک تہائی لیں گے یہ جائز ہے اور اگر یہ ٹھہرا کہ مالک ایک تہائی لے گا اور ایک عامل نصف لے گا اور دوسرا عامل چھٹا حصہ لے گا یہ بھی جائز ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: دو شخصوں کا باغ ہے اسے معاملہ پر دیا یوں کہ نصف عامل لے گا اور نصف میں وہ دونوں،(6)یہ جائز ہے اور اگر یہ شرط ہوئی کہ نصف ایک حصہ دارلے گا اور دوسرے نصف میں عامل اور دوسرا حصہ دار دونوں شریک ہوں گے یہ ناجائزہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: کاشتکار نے بغیر اجازت زمیندار پیڑ لگا دیا جب درخت بڑا ہوگیا تو زمیندار کہتا ہے میرا ہے اور کاشتکار کہتا ہے میرا ہے اگر زمیندار نے یہ اقرار کر لیا ہے کہ کاشتکار ہی نے لگایا ہے اور پودہ بھی اوسی کا تھا تو کاشتکار کو ملے گا مگر دیانۃً اوس کے لیے یہ درخت جائز نہیں کیوں کہ بغیر اجازت لگایا ہے اور اگر اجازت لے کر لگاتا اور مالک زمین شرکت کی بھی شرط نہ کرتا تو کاشتکار کے لیے دیانۃً بھی جائز ہوتا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: گاؤں کے بچوں کو معلّم پڑھاتا ہے گاؤں کے لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ میاں جی کے لیے کھیت بودیا جائے تھوڑے تھوڑے بیج سب نے دیے اور میاں جی کے لیے کھیت بو دیا گیا تو جو کچھ پیداوار ہوئی وہ اون کی ملک ہےجنھوں نے بیج دیے ہیں معلّم کی ملک نہیں کیوں کہ بیج اونھوں نے معلم کو دیا نہیں تھا کہ معلم مالک ہو جاتا ہاں اب اگر پیداوار معلّم