درختوں کو پانی دینا اون کی حفاظت کرنا یہ سب کام عامل کے ذمہ ہیں اور جن چیزوں میں خرچ کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً زمین کو کھودنا اوس میں کھات ڈالنا انگور کی بیلوں کے لیے چھپر بنوانا یہ بقدر ِحصص (1) دونوں کے ذمہ ہیں اسی طرح پھل توڑنا۔جو۲ کچھ ؔ پھل پیدا ہوں وہ حسب قرار داد دونوں تقسیم کر لیں۔۳ کچھ ؔ پیدا نہ ہوا تو کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔۴ یہ ؔعقد دونوں جانب سے لازم ہوتا ہے بعد عقد دونوں میں سے کسی کو بغیر عذر منع کا اختیار نہیں اور نہ بغیر دوسرے کی رضامندی کے فسخ کر سکتا ہے۔۵ عا ؔ مل کو کام کرنے پر مجبور کیا جائے گا مگر جب کہ عذر ہو۔جو ۶ کچھ ؔ طرفین کے لیے مقرر ہوا ہے اوس میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے۔۷ عا ؔ مل کو یہ اختیار نہیں کہ دوسرے کو معاملہ کے طور پر دے دے مگر جب کہ مالک نے یہ کہہ دیا ہو کہ تم اپنی رائے سے کام کرو۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: معاملہء فاسدہ کے احکام یہ ہیں۔۱ عا ؔ مل کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا،جو ۲ کچھ ؔ پیداوار ہو وہ کل مالک کی ہے اور اوس پر یہ ضرور نہیں کہ اوس میں کا کوئی جز صدقہ کرے،۳ عا ؔ مل کے لیے اُجرت مثل واجب ہے پیداوار ہو یا نہ ہو اور اوس میں وہی صاحِبَین(3)کا اختلاف ہے کہ پوری اُجرتِ مثل اگرچہ مقرر سے زیادہ ہو واجب ہے یا یہ کہ مقرر شدہ سے زائد نہ ہونے پائے۔ اور اگر حصہ کی تعیین نہ ہوئی ہو تو بالاتفاق پوری اُجرتِ مثل واجب ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: عامل اگر چور ہے اوس کا چور ہونا لوگوں کو معلوم ہے اندیشہ ہے کہ پھلوں کو چورائے گا تو معاملہ کو فسخ کیا جاسکتا ہے۔ یوہیں اگر عامل بیمار ہوگیا کہ پوری طرح کام نہ کرسکے گا معاملہ فسخ کیا جاسکتا ہے۔ دونوں میں سے ایک کے مر جانے سے معاملہ خود ہی فسخ ہو جاتا ہے اور اسی طرح مدت کا پورا ہونا بھی سبب فسخ ہے جبکہ ان دونوں صورتوں میں پھل طیار نہ ہوئے ہوں۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: مرنے کی صورت میں اگرچہ معاملہ فسخ ہو جاتا ہے مگر دفعِ ضرر کے لیے عقد کو پھل طیار ہونے تک باقی رکھا جائے گا لہٰذا عامل کے مرنے کے بعد اس کے ورثہ اگر یہ چاہیں کہ پھل طیار ہونے تک ہم کام کریں گے تو اُن کو ایسا موقع دیا جائے گا اگرچہ مالکِ زمین ان کو دینے سے انکار کرتا ہو۔ اور اگر وُرثہ کام کرنا نہ چاہتے ہوں کہتے ہوں کہ کچے ہی پھل توڑ کر تقسیم کردیے جائیں تو اون کو کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ اس صورت میں مالک کو اختیار دیا جائے گا کہ یہ بھی اگر یہی چاہتا