مسئلہ ۹: ترکاریوں (1)کے درخت کا معاملہ کیا اور اب ان میں سے ترکاریوں کے نکلنے کا وقت ختم ہوچکا بیج لینے کاوقت باقی ہے جیسے میتھی، پالک، سویا(2)،وغیرہ جب اس حد کو پہنچ جائیں کہ ان سے ساگ نہیں لیا جاسکتا بیج لیے جاسکتے ہیں اوریہ بیج کام کے ہوں ان کی خواہش ہوتی ہو اور عامل سے کہہ دیا کہ کام کرے آدھے بیج اوسے ملیں گے یہ معاملہ صحیح ہے اگرچہ مدّت نہ ذکر کی جائے اور اس صورت میں وہ پیڑ مالک کے ہوں گے صرف بیجوں کی تقسیم ہوگی اور اگر پیڑوں کی تقسیم بھی مشروط ہو تومعاملہ فاسد ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: درختوں میں پھل آچکے ہیں ان کو معاملہ کے طور پر دینا چاہتا ہے مگر ابھی وہ پھل تیار نہیں ہیں عامل کے کام کرنے سے اون میں زیادتی ہوگی تو معاملہ صحیح ہے اور اگر پھل بالکل پورے ہوچکے ہیں اب ان کے بڑھنے کا وقت ختم ہوچکا تو معاملہ صحیح نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: کسی کو خالی زمین دی کہ اس میں درخت لگائے پھل اور درخت دونوں نصف نصف تقسیم ہو جائیں گے یہ جائز ہے اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ زمین و درخت دونوں چیزیں دونوں کے مابین تقسیم ہوں گی تو یہ معاملہ ناجائز ہے اور اس صورت میں پھل اور درخت مالکِ زمین کے ہوں گے اور دوسرے کو پودوں کی قیمت ملے گی اور اُجرت مثل۔ اور قیمت سے مراد اوس روز کی قیمت ہے جس دن لگائے گئے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: کسی شخص کے باغ سے گٹھلی اوڑ کر دوسرے کی زمین میں چلی گئی اور یہاں جم گئی اور پیڑ ہوگیا جیسا کہ خودرو (6)درختوں میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ ادھر اودھر سے بیج آکر جم جاتا ہے یہ درخت اوس کا ہے جس کی زمین ہے اس کا نہیں ہے جس کی گٹھلی ہے کیوں کہ گٹھلی کی کوئی قیمت نہیں ہے اسی طرح شفتالو یا آم یا اسی قسم کے دوسرے پھل اگر دوسرے کی زمین میں گرے اور جم گئے یہ درخت بھی مالکِ زمین کے ہوں گے کہ پہلے یہ پھل سڑیں گے اوس کے بعد جمیں گے اور جب سڑکر اوپر کا حصہ جاتا رہا تو فقط گٹھلی باقی رہی جس کی کوئی قیمت نہیں۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: معاملہ صحیحہ کے احکام حسب ذیل ہیں۔۱ درختوںؔ کے لیے جن کاموں کی ضرورت ہے مثلاً نالیاں ٹھیک کرنا