مسئلہ ۵: معاملہ میں مدت بیان کرنا ضرور نہیں بغیر بیان مدّت بھی معاملہ صحیح ہے اور اس صورت میں پہلی مرتبہ پھل طیار ہونے پر معاملہ ختم ہوگا اور ترکاریوں میں بیج طیار ہونے پر ختم ہوگا جب کہ بیج مقصود ہوں ورنہ خود ترکاریوں کی پہلی فصل ہوجانے پر معاملہ ختم ہوگا اور اگر مدت ذکر نہیں کی گئی اور اوس سال پھل پیدا ہی نہ ہوئے تو معاملہ فاسد ہے۔ (1)(درمختار، ہدایہ)
مسئلہ ۶: معاملہ میں مدت ذکر ہوئی مگر معلوم ہے کہ اوس مدّت میں پھل نہیں پیدا ہوں گے تو معاملہ فاسد ہے اور اگر ایسی مدت ذکر کی جس میں احتمال ہے کہ پھل پیدا ہوں یا نہ ہوں تو معاملہ صحیح ہے۔ پھر اس صورت میں اگر پھل آگئے تو جو شرائط ہیں اون پر عمل ہوگا اور اگر اس مدت میں نہیں آئے بلکہ مدت پوری ہونے کے بعد پھل آئے تو معاملہ فاسد ہے اور اس صورت میں عامل کو اُجرت مثل ملے گی یعنی ابتدا سے پھل طیار ہونے تک کی اُجرت مثل پائے گا اور اگر اس صورت میں کہ مدت مذکور ہوئی اور یہ احتمال تھا کہ پھل آئیں گے مگر اوس سال بالکل پھل نہیں آئے نہ مدت میں نہ بعد مدت تو عامل کو کچھ نہیں ملے گا کیوں کہ یہ معاملہ صحیح ہے فاسد نہیں ہے کہ اُجرت مثل دلائی جائے اور اگر اوس مدت معینہ میں کچھ پھل نکلے کچھ بعد میں نکلے تو جو پھل مدت کے اندر پیدا ہوئے اُن میں عامل کو حصّہ ملے گا بعد والوں میں نہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: نئے پودے جو ابھی پھلنے کے قابل نہیں ہیں بطور معاملہ دیے کہ عامل اوس میں کام کرے جب پھل آئیں گے تو دونوں نصف نصف تقسیم کر لیں گے یہ معاملہ فاسد ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں کتنے دنوں میں پھل آئیں زمین موافق ہے تو جلد پھلیں گے ناموافق ہے تو دیر میں پھلیں گے ہاں اگر مدت ذکر کر دی جائے اور وہ اتنی ہو کہ اون میں پھلنے کا احتمال ہو تو معاملہ صحیح ہے۔(4) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۸: ترکاریوں کے درخت معاملہ کے طور پر دیے کہ جب تک پھلتے رہیں کام کرو اور اتنا حصہ تم کو ملا کریگا یہ معاملہ فاسد ہے یوہیں باغ دیا اور کہہ دیا کہ جب تک یہ پھلتا رہے کام کرو اور نصف لیا کرو یہ معاملہ فاسد ہے کہ مدت نہ بیان کرنے کی صورت میں صرف پہلی فصل پر معاملہ ہوتا ہے۔(4) (ہدایہ، درمختار)