مزارِع کے حصہ میں اس کی اجازت پر موقوف ہے اور فرض کرو مزارِع نے اجازت نہیں دی اور مشتری کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ زمین مزارَعت پر ہے تو مشتری کو اختیار حاصل ہے کہ صرف بائع کے حصہ پر قناعت کرے اور حصہء مزارع کے مقابل میں ثمن کا جو حصہ ہو وہ کم کر دے اور چاہے تو بیع فسخ کر دے کہ اس نے پوری زراعت خریدی تھی فقط اتنا ہی حصہ اسے خریدنا مقصود نہ تھا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: کھیت میں بیج ڈال دیے گئے اور ابھی اوگے نہیں کھیت کو بیع کر دیا اگر وہ بیج سڑ گئے ہیں (2)تو مشتری کے ہیں اور اگر سڑے نہیں ہیں تو یہ بیج بائع کے ہیں اور فرض کرو مشتری نے پانی دیا بیج اوگے غلہ پیدا ہوا تو یہ سب بائع ہی کا ہے مشتری کو کوئی معاوضہ نہیں ملے گا کہ اس نے جو کچھ کیا تبرع (3)ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: مدیون دَین کی وجہ سے قید کیا گیا اور اس کے پاس یہی زمین ہے جو مزارَعت پر اوٹھا چکا ہے اور زمین میں کچی زراعت ہے جس کی وجہ سے بیع نہیں کی جاسکتی کہ بیچ کر دَین ادا کیا جاتا تو اسے قید خانہ سے رہا کیا جائے گا کہ دَین کی ادامیں جو کچھ دیر ہوگی وہ عذر سے ہے۔ (5)(ہدایہ)
مسئلہ ۳۷: مزارِع ایسا بیمار ہوگیا کہ کام نہیں کرسکتا یا سفر میں جانا چاہتا ہے یا وہ اس پیشہء زراعت ہی کو چھوڑنا چاہتا ہے ان صورتوں میں مزارَعت فسخ کر دی جائے گی یا مزارع یہ کہتا ہے کہ میں دوسری زمین کی کاشت کروں گا اور بیج اسی کے ہیں توچھوڑ سکتا ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: مدت پوری ہوگئی اور ابھی فصل طیار نہیں ہے تو مدت کے بعد جتنوں دنوں تک زراعت طیار نہ ہوگی اوتنے دنوں کی مزارع کے ذمہ نصف زمین کی اُجرتِ مثل واجب ہے اور مدت کے بعد زراعت پر جو کچھ صرف ہوگا وہ دونوں کے ذمہ ہوگا کیونکہ عقدِ مزارعت ختم ہوچکا اب یہ زراعت دونوں کی مشترک چیز ہے لہٰذا خرچ بھی دونوں کے ذمہ مگر یہ ضرور ہے کہ جوکچھ ایک خرچ کرے وہ دوسرے کی اجازت سے ہو یا حکم قاضی سے بغیر اس کے جو کچھ خرچ کیا مُتبرِّع ہے اس کا معاوَضہ نہیں ملے گا۔ (7)(ہدایہ)
مسئلہ ۳۹: مدت ختم ہوگئی مالکِ زمین یہ چاہتا ہے کہ یہی کچی کھیتی کاٹ لی جائے یہ نہیں کیا جاسکتا اور اگر مزارع کچی