دے گا جب مالکِ زمین گواہوں سے یہ ثابت کر دے کہ زمین میری ہے مزارَعت پر فلاں کو دے دی ہے وہ کھیت بو کر غائب ہوگیا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: فصل طیار ہونے کے بعد مزارِع مرگیا مالکِ زمین یہ دیکھتا ہے کہ کھیت میں زراعت موجود نہیں ہے اوریہ معلوم نہیں کہ کیا ہوئی تو اپنے حصہ کا تاوان اس کے ترکہ سے وصول کریگا اگرچہ ورثہ کہتے ہوں کہ زراعت چوری ہوگئی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: مالکِ زمین پر دَین ہے اور سوا اس زمین کے جس کو مزارعت پر دے چکا ہے کوئی مال نہیں ہے جس سے دَین ادا کیا جائے اگر ابھی فقط عقد ِمزارَعت ہی ہوا ہے کاشتکار نے کھیت بویا نہیں ہے تو زمین دَین کی ادا کے لیے بیع کر دی جائے اور مزارعت فسخ کر دی جائے اور اگر کھیت بویا جاچکا ہے مگر ابھی اوگا نہیں ہے جب بھی بیع ہوسکتی ہے اور دیانت کا حکم یہ ہے کہ مزارع کو کچھ دے کر راضی کر لیا جائے اور زراعت اوگ چکی ہے مگر ابھی طیار نہیں ہوئی ہے تو بغیر اجازت مزارع نہیں بیچی جاسکتی وہ اگر اجازت دے دے تو اب بیچنا جائز ہے۔ اور اس میں دو صورتیں ہیں صرف زمین کی بیع ہو یا زمین و زراعت دونوں کی ہو اگر دونوں کی بیع ہو اور مزارِع نے اجازت دے دی تو دونوں میں بیع نافذ ہوگی اور اس صورت میں ثمن کو قیمت زمین اور قیمت زراعت پر تقسیم کریں جو حصہ زمین کے مقابل میں ہو وہ مالکِ زمین کا ہے اور جو حصہ زراعت کے مقابل میں ہے دونوں پر حسب قرار داد تقسیم کیا جائے۔ اور اگر مزارِع نے اِجازت نہیں دی تو مشتری کو اختیار ہے کہ بیع کو فسخ کر دے یا زراعت طیار ہونے کا انتظار کرے۔ اور اگر صرف زمین کی بیع ہوئی ہے اور مزارِع نے اجازت دے دی تو زمین مشتری کی ہے اور زراعت بائع و مزارِع کی ہے۔ اور اگر مزارِع نے اجازت نہیں دی تو مشتری کو اختیار ہے کہ بیع فسخ کر دے یا انتظار کرے اور اگر مالکِ زمین نے زمین اور زراعت کا اپنا حصہ بیع کیا تو اس میں بھی وہی دو صورتیں ہیں۔ اور مزارِع یہ چاہے کہ بیع کو فسخ کر دے یہ حق اسے حاصل نہیں۔(3) (ہدایہ، درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: فصل طیار ہونے کے بعد دَین ادا کرنے کے لیے زمین بیچی گئی اگر صرف زمین کی بیع ہوئی تو بلا توَقُّف جائز ہے اور اگر زمین اور پوری زراعت بیع کر دی تو زمین اور زراعت کے اس حصہ میں جو مالکِ زمین کا ہے بیع جائز ہے اور