کاٹنا چاہتا ہے تو مالکِ زمین کو اختیار دیا جائے گا کہ کچا کھیت کا ٹ کر دونوں بانٹ لیں یا مزارع کے حصہ کی قیمت دے کر کل زراعت لے لے یا کھیت پر اپنے پاس سے صرف کرے اور طیار ہونے پر اس کے حصہ سے وصول کرے۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۴۰: دو شخصوں کی مشترک زمین ہے ایک غائب ہے تو جو موجود ہے وہ پوری زمین میں کاشت کرسکتا ہے جب شریک آجائے تو جتنے دنوں تک اس کی کاشت میں رہی اب یہ اوتنے دنوں کاشت میں رکھے یہ اُس صورت میں ہے کہ زراعت سے زمین کو نقصان نہ پہنچے اوس کی قوت کم نہ ہو اور اگر معلوم ہے کہ زراعت سے زمین کمزور ہو جائے گی یا زراعت نہ کرنے میں زمین کو نفع پہنچے گا، اُس کی قوت زیادہ ہوگی تو شریک موجود کو زراعت کی اجازت نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت کاشت کی اور مالک کو اُس وقت خبر ہوئی جب فصل طیار ہوئی اُس نے اپنی رضامندی ظاہر کی یا یہ ہوا کہ پہلے ناراض ہوا پھر رضامندی دے دی دونوں صورتوں میں کاشتکار کے لیے پیداوار حلال ہوگئی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: ایک شخص نے دوسرے کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کیا اور مزارعت پر اوٹھا دی(4)مزارع (5)نے اپنے بیج بوئے اور ابھی اوگے نہیں تھے کہ مالکِ زمین نے اجازت دے دی تو اجازت ہوگئی اور جو کچھ پیداوار ہوگی وہ مالکِ زمین اور مزارع کے مابین اس طرح تقسیم ہوگی جو غاصب نے طے کی تھی۔ اور اگر کھیتی اوگ آئی ہے اور ایسی ہوگئی ہے کہ اس کی کچھ قیمت ہو اور اب مالکِ زمین نے اجازت دی تو مزارعت جائز ہوگئی یعنی مالکِ زمین اس کے بعد ناجائز کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا اور اجازت سے پہلے اپنا کھیت خالی کراسکتا تھا مزارعت کے جائز ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ پیداوار میں اسے حصہ ملے گا بلکہ اس صورت میں جو کچھ پیداوار ہوگی وہ مزارع و غاصب کے مابین تقسیم ہوگی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: بیج غصب کر کے اپنی زمین میں بو دیے تو جب تک اوگے نہ ہوں مالک اجازت دے سکتا ہے کہ ابھی بیج موجود ہیں اور اوگنے کے بعد اجازت نہیں ہوسکتی کہ بیج موجود نہیں۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: مالکِ زمین نے اپنی زمین رہن رکھی پھر وہ زمین مرتہن کو مزارَعت پر دے دی کہ مرتہن اپنے بیج