Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
292 - 357
نہیں بلکہ جتنی بھی اُجرت مثل ہو اگرچہ مقرر شدہ سے زیادہ ہو وہی دی جائے گی۔(1) (ہدایہ) 

    مسئلہ ۱۱: مزارعت فاسدہ میں اگر بیج مالکِ زمین کے ہیں اور پیداوار اس نے لی یہ اس کے لیے حلال و طیّب ہے اور اگر مزارِع کے بیج تھے اور پوری پیداوار اس نے لی تو اس کے لیے فقط اوتنا ہی طیّب ہے جو بیج اور لگان کے مقابل میں ہے باقی کو صدقہ کرے۔ (2)(ہدایہ) 

    مسئلہ ۱۲: مزارعت فاسدہ میں اگر یہ چاہیں کہ پیداوار کا جو کچھ حصہ ملا ہے وہ طیّب و طاہر ہو جائے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ حصے بنٹ جانے کے بعد(3)مالکِ زمین مزارِع سے کہے کہ تمہارا میرے ذمہ یہ واجب ہے اور میرا تمہارے ذمہ یہ واجب ہے اس غلہ کو لے کر مصالحت کر لو اور مزارع بھی اسی طرح کرے اور دونوں آپس میں مصالَحت کر لیں اب کوئی حرج نہ رہے گا۔ (4)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۳: ایک شخص نے دوسرے کو بیج دیے اور یہ کہا کہ تم انھیں اپنی زمین میں بو دو اور جو کچھ غلہ پیدا ہو وہ تمہارا ہے یا یوں کہا کہ اپنی زمین میں میرے بیج سے کاشت کرو جو کچھ پیداوار ہو وہ تمہاری ہے یہ دونوں صورتیں جائز ہیں مگر یہ مزارعت نہیں ہے کیونکہ پیداوار میں شرکت نہیں ہے بلکہ اس شخص نے اپنے بیج اسے قرض دیے اور اگر بیج والے نے مالک زمین سے یہ کہا کہ میرے بیج سے تم اپنی زمین میں کاشت کرو اور جو کچھ پیداوار ہو میری ہے یہ صورت بھی جائز ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی زمین کاشت کے لیے عاریت لی۔ (5)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۴: مزارِع کو زمین دی اور یہ کہا کہ اس میں گیہوں (6)اور جَودونوں بوئے جائیں ایک کو گیہوں ملیں گے اور دوسرے کو جو یہ مزارعت فاسد ہے۔ (7)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۵: مزارع کو زمین دی اور یہ کہا کہ اگر تم نے گیہوں بوئے تو نصف نصف دونوں کے اور جَوبوئے تو کل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۳۹۔۳۴۰.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۴۰.

3۔۔۔۔۔۔یعنی تقسیم ہوجانے کے بعد۔

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الثانی فی بیان أنواع المزارعۃ،ج۵،ص۲۳۸.

5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،الباب الثالث فی الشروط...إلخ،ج۵ ،ص۲۴۱.

6۔۔۔۔۔۔گندم۔

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الثالث فی الشروط...إلخ،ج۵،ص۲۴۵.
Flag Counter