Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
291 - 357
کیاجاسکتا ورنہ اُسے پانی دینا ہی ہوگا انکار نہیں کرسکتا۔ (1)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۸: مزارعت ہوجانے کے بعد پیداوار کی تقسیم جس طرح طے پاگئی ہے اس میں کمی بیشی ہوسکتی ہے یا نہیں مثلاً نصف نصف تقسیم کرنا طے پایا تھا اب ایک تہائی دو تہائیاں لینا دینا چاہتے ہیں اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ کمی یا بیشی مالکِ زمین کی طرف سے ہوگی یا مزارِع کی طرف سے اور بہرصورت بیج مالکِ زمین کے ہیں یا مزارِع کے۔ اگر کھیت طیار ہوگیا اور بیج مزارِع کے ہیں اور پہلے مزارعت نصف پر تھی اب کاشتکار مالکِ زمین کا حصہ بڑھانا چاہتا ہے اسے دو تہائیاں دینا چاہتا ہے یہ ناجائز ہے بلکہ پیداوار اسی طور پر تقسیم ہوگی جو طے ہے اور اگر مالکِ زمین مزارع کا حصہ بڑھانا چاہتا ہے بجائے نصف اس کو دو تہائیاں دینا چاہتا ہے یہ جائز ہے اور اگر بیج مالکِ زمین کے ہیں اور یہ مزارِع کا حصہ زیادہ کرنا چاہتا ہے یہ ناجائز ہے اور مزارِع مالکِ زمین کا حصہ زیادہ کرنا چاہتا ہے یہ جائز ہے اور اگر فصل طیار ہونے سے پہلے کمی بیشی کرنا چاہتے ہیں تو مطلقًا جائز ہے مزارِع کی طرف سے ہو یا مالکِ زمین کی طرف سے بیج اس کے ہوں یا اس کے۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۹: مزارعت اس طرح ہوئی کہ ایک کی زمین ہے اور بیج دونوں کے ہیں اور مزارع کے ذمہ کام کرنا ہے اور شرط یہ ہے کہ جو کچھ پیداوار ہوگی دونوں برابر بانٹ لیں گے یہ مزارعت فاسد ہے۔ یوہیں اگر ایک کے لیے دو تہائیاں اور دوسرے کے لیے ایک تہائی ملنا شرط ہو یہ بھی فاسد ہے۔ اور اگر زمین دونوں کی ہو اور بیج بھی دونوں دیں گے اور کام بھی دونوں کریں گے اور جو کچھ پیداوار ہوگی دونوں برابر بانٹ لیں گے یہ مزارعت صحیح ہے اور اگر زمین دونوں میں مشترک ہے اور بیج ایک کے ہیں اور پیداوار برابر لیں گے یہ صورت فاسد ہے۔ اور اگر اسی صورت میں کہ زمین مشترک ہے یہ شرط ہو کہ جو کام کریگا اس کی دو تہائیاں اور دوسرے کو یعنی جس کے بیج نہیں ہیں اس کو ایک تہائی ملے گی یہ جائز ہے۔ (3)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۰: مزارعت فاسدہ کے یہ احکام ہیں۔ جو کچھ اس صورت میں پیداوار ہو اس کا مالک تنہا وہ شخص ہے جس کے بیج ہیں پھر اگر بیج مزارِع کے ہیں تو یہ مالکِ زمین کو زمین کی اُجرتِ مثل دے گا اور اگر بیج مالکِ زمین کے ہیں تو یہ مزارِع کو اس کے کام کی اُجرت مثل دے گا اور اگر بیل بھی مالکِ زمین ہی کے ہیں تو زمین اور بیل دونوں کی اُجرت مثل اس کو ملے گی۔ امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک اُجرت مثل اوتنی ہی دی جائے جو مقرر شدہ سے زائد نہ ہویعنی اگر مقرر شدہ سے زائد ہوتی ہو تو اوتنی ہی دیں جو مقرر ہے یعنی مثلاً نصف پیداوار کی برابر اور امام محمدرحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک یہ پابندی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الأوّل فی شرعیتھا...إلخ،ج۵،ص۲۳۷.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الثانی فی بیان أنواع المزارعۃ،ج۵،ص۲۳۸،۲۳۹.
Flag Counter