Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
281 - 357
دوسرے سے دوسرا، یا۷؎مکان کو کرایہ پر دے دیا ایک ماہ کا کرایہ ایک لے گا دوسرے مہینہ کا دوسرا ،یا۸؎ دو مکان ہیں ایک کا کرایہ ایک لے گا دوسرے کا دوسرا یہ سب صورتیں جائز ہیں۔ (1)(درمختار) 

    مسئلہ ۴: مہایاۃ کے طور پر جو چیز اس کے حصہ میں آئی یہ اس چیز کو کرایہ پر بھی دے سکتا ہے مثلاًاس مکان میں اس کو رہنا ہی ضرور نہیں بلکہ کرایہ پر اوٹھا سکتا ہے(2)اگرچہ مہایاۃ کے وقت یہ شرط اس نے ذکر نہیں کی ہو کہ میں اس کو کرایہ پر بھی دے سکوں گا۔ (3)(ہدایہ) 

    مسئلہ ۵: غلاموں سے خدمت لینے میں یہ طے ہوا کہ جو غلام جس کی خدمت کریگا اس کا نفقہ اسی کے ذمہ ہے یہ جائز ہے بلکہ اگر نفقہ کا ذکر نہیں آیا جب بھی اُسی کے ذمہ ہے جس کی خدمت کرتا ہے۔(4) (درمختار) 

    مسئلہ ۶: مکان مشترک کو کرایہ پر دیا گیا اور یہ ٹھہرا ہے کہ باری باری دونوں کرایہ وصول کریں گے اب اس کا کرایہ زیادہ ہوگیا تو جس کی باری میں کرایہ کی زیادتی ہوئی ہے تنہا یہی اس کا مستحق نہیں بلکہ اس زیادتی کے دونوں حقدار ہیں اور اگر دو مکان تھے ایک کا کرایہ ایک لیتا تھا دوسرے کا دوسرا اور ایک مکان کے کرایہ میں اضافہ ہوا تو جو اس کا کرایہ لیتا تھا یہ زیادتی تنہا اسی کی ہے دوسرا اس میں سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔(5) (درمختار) 

    مسئلہ ۷: دو چیزیں مشترک ہیں اور دونوں کی منفعت مختلف قسم کی ہے مثلاًایک مکان اور ایک غلام مشترک ہیں اور مہایاۃ اس طرح ہوئی کہ ایک سے ایک شریک منفعت حاصل کرے اور دوسرے سے دوسرا یعنی ایک شخص غلام سے خدمت لے اور دوسرا مکان میں سکونت کرے یہ بھی جائز ہے۔(6) (درمختار) 

    مسئلہ ۸: اگر فریقین کی رضامندی سے مہایاۃ ہوئی ہو تو اسے توڑ بھی سکتے ہیں دونوں توڑیں یا ایک، عذر سے ہویا بلاعذر سب جائز ہے، ہاں اگر قضائے قاضی سے مہایاۃ ہوئی ہو تو جب تک دونوں راضی نہ ہوں فقط ایک نہیں توڑسکتا۔ (7)(عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمحتار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص ۴۴۷.

2۔۔۔۔۔۔یعنی کرایہ پر دے سکتا ہے۔

3۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فی المھایاۃ،ج۲،ص۳۳۵.

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمحتار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۹.

5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.        6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثانی عشر فی المھایاۃ،ج۵،ص۲۲۹.
Flag Counter