Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
282 - 357
    مسئلہ ۹: غلام میں اس طرح مہایاۃ ہوئی کہ اوس سے اُجرت پر کام کرایا جائے ایک مہینہ کی اُجرت ایک شریک لے گا دوسرے مہینہ کی دوسرا یہ ناجائز ہے ۔یوہیں اگر دو غلام ہوں ایک کی اُجرت ایک شریک لے گا دوسرے کی دوسرا یہ بھی ناجائز۔ ایک جانور یا دو جانوروں کی سواری لینے یا کرایہ پر دینے میں مہایاۃ ہوئی یہ بھی ناجائز ہے۔ یوہیں اگر گائے یا بھینس مشترک ہے یہ ٹھہرا کہ پندرہ روز ایک کے یہاں رہے اور دودھ سے نفع اوٹھائے اور پندرہ دن دوسرے کے یہاں رہے اور یہ دودھ سے نفع اٹھائے یہ ناجائز ہے اور دودھ جس کے یہاں کچھ زیادہ ہوا یہ زیادتی بھی اس کے لیے حلال نہیں اگرچہ دوسرے نے اجازت دے دی ہو اور کہہ دیا ہو کہ جو کچھ زیادتی ہو وہ تمہارے لیے حلال ہے، ہاں اس زیادتی کو خرچ کر دینے کے بعد اگر حلال کر دے تو ہوسکتا ہے کہ یہ ضمان سے اِبرا ہے اور یہ جائز ہے۔(1) (خانیہ، درمختار) 

    مسئلہ ۱۰: درختوں کے پھلوں میں مہایاۃ ہوئی یہ ناجائز ہے۔ یوہیں بکریاں مشترک تھیں دونوں نے بطور مہایاۃ کچھ کچھ بکریاں لے لیں کہ ہر ایک اپنے حصہ کی چرائے گا اور دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے گا یہ ناجائز ہے۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۱: بکریوں اور پھلوں وغیرہ میں مہایاۃ جائز ہونے کا حیلہ یہ ہے کہ اپنی باری میں شریک کا حصہ خرید لے جب باری کی مدت پوری ہو جائے اس حصہ کو شریک کے ہاتھ بیع کر ڈالے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ روزانہ دودھ کو وزن کر لے اور شریک کے حصہ کا جتنا دودھ ہو اس سے قرض لے لے جب مدت پوری ہو جائے اور جانور دوسرے کے پاس جائے اس زمانہ میں جو کچھ دودھ اس کے حصہ کا ہو قرض میں ادا کرتا رہے یہاں تک کہ جتنا قرض لیا تھا وہ مقدار پوری ہو جائے اس طرح کرنا جائز ہے کہ مشاع (3)کو قرض لیا جاسکتا ہے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۲: کپڑا مشترک ہے اس میں اس طرح مہایاۃ ہوئی کہ دونوں باری باری سے پہنیں گے یا دو کپڑے ہیں ایک کو ایک پہنے گا دوسرے کو دوسرا یہ مہایاۃ ناجائز ہے کہ کپڑے پہننے میں لوگوں کی مختلف حالت ہوتی ہے کسی کے بدن پر جلد پھٹتا ہے اور کسی کے دیر میں۔(5) (ردالمحتار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،فصل فی المھایاۃ،ج۲،ص۱۹۷.

و''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۹.

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثانی عشر فی المھایاۃ،ج۵،ص۲۳۰.

3۔۔۔۔۔۔شے مشترک۔

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ، مطلب: فی الرجوع عن القرعۃ،ج۹،ص۴۵۰.

5۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۵۱.
Flag Counter