Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
279 - 357
چیز میں جو حصہ ہوتا ہے اُس کی قیمت کبھی زیادہ ہوتی ہے اور تقسیم کے بعد وہ قیمت نہیں رہتی لہٰذا میرا یہ فائدہ ہے کہ تقسیم نہ رہنے کی صورت میں میرے باپ کی مالیت زیادہ داموں میں فروخت ہوگی۔ (1)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۰: تقسیم کو توڑا جاسکتا ہے یعنی شرکا نے اپنی رضامندی سے تقسیم کر لی اس کے بعد یہ چاہتے ہیں کہ یہ چیزیں شرکت میں رہیں یہ ہوسکتا ہے۔(2) (درمختار) 

    مسئلہ ۴۱: محض تقسیم کر دینے سے کوئی معین حصہ شرکا میں سے کسی خاص شخص کی مِلک نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے یہ ضرور ہے کہ قاضی نے معین کر دیا ہو کہ یہ فلاں کا ہے اور یہ فلاں کا یا یہ کہ ایک نے تقسیم کے بعد ایک حصہ پر قبضہ کر لیا تو یہ اس کا ہوگیا یا قرعہ کے ذریعہ سے حِصَص(3)کی تعیین ہو جائے یا یہ کہ شرکا نے کسی کو وکیل کر دیا ہو کہ تقسیم کر کے ہر ایک کا حصہ مُشخص کر دے (4)اور اُس نے مشخص کر دیا۔(5) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۲: دو شخصوں میں کوئی چیز مشترک تھی انھوں نے تقسیم کر لی اور قرعہ ڈال کر حصہ کا تعین کر لیا اس کے بعد ایک شریک اس تقسیم پر نادم ہوا اور چاہتا یہ ہے کہ تقسیم ٹوٹ جائے یہ نہیں ہوسکتا کہ تقسیم مکمل ہوچکی۔ یوہیں اگر ان دونوں نے کسی تیسرے شخص کو تقسیم کے لیے مقرر کیا اور اس نے انصاف کے ساتھ تقسیم کر کے قرعہ ڈالا تو جس کے نام کا جو حصہ قرعہ کے ذریعہ متعین ہوچکا بس وہی اس کا مالک ہے۔ (6)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۳: تین شریکوں میں تقسیم ہوئی اور قرعہ ڈالا گیا ابھی ایک کا نام نکلا ہے دو باقی ہیں تو ہر ایک رجوع کرسکتا ہے اور دو کے نام نکل آئے تو اب کوئی رجوع نہیں کرسکتا اور چار شریکوں میں دو کے نام نکل آئے تو رجوع کرسکتے ہیں اور تین کے نام نکلنے کے بعد رجوع نہیں کرسکتے۔ (7)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۴: ترکہ میں اونٹ گائے بکریاں سب ہیں ایک حصہ اونٹوں کا دوسرا گایوں کا تیسرا بکریوں کا قرار دیا اور قرعہ ڈالا گیا جس کے حصہ میں جو جانور آئے لے لے یہ جائز ہے اور اگر یہ قرار پایا کہ جس کے حصہ میں اونٹ آئیں گے وہ اونٹ لے گا اور اتنے روپے دے گا جو اس کے شریکوں کو دیے جائیں گے یہ بھی جائز ہے۔ (8)(عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثامن فی قسمۃ الترکۃ...إلخ،ج۵،ص۲۲۳.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۶.

3۔۔۔۔۔۔حصوں۔        4۔۔۔۔۔۔معیّن کردے۔

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الخامس فی الرجوع عن القسمۃ...إلخ،ج۵،ص۲۱۷.

6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.    7۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.    8۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.
Flag Counter