Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
278 - 357
ہروارث سے دین کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے اور ایک ہی وارث کو دائن نے قاضی کے پاس پیش کیا تو تنہا اُسی پر پورے دَین کافیصلہ ہوسکتا ہے لہٰذا یہ وارث ادائے دَین میں متَبَرِّع نہ ہوا(1)ہاں اگرمُتَبَرِّع ہو کہہ دیا ہو کہ میں رجوع نہ کروں گا تو اب رجوع نہیں کرسکتا۔ (2)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۷: میت کا ترکہ ورثہ نے تقسیم کیا اور ان وارثوں میں اس کی عورت بھی ہے تقسیم کے بعد عورت نے دَینِ مَہر کا(3)دعویٰ کیا اور گواہوں سے ثابت کر دیا تقسیم توڑ دی جائے گی اسی طرح اگر کسی وارث نے ترکہ میں دَین کا دعویٰ کیا اس کا دعوی صحیح ہے اس پر گواہ لیے جائیں گے اور ثابت ہونے پر تقسیم توڑ دی جائے گی۔(4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۸: میت کا دَین دوسروں کے ذمہ تھا یہ دَین و عین یعنی جو کچھ ترکہ موجود ہے دونوں کو تقسیم کیا مثلاً یوں کہ یہ وارث یہ چیز لے اور یہ دَین جو فلاں کے ذمہ ہے اور وہ وارث یہ چیز اور یہ دَین لے جو فلاں کے ذمہ ہے یہ تقسیم دَین و عین دونوں میں باطل اور اگر اَعیان یعنی جو چیزیں موجود ہیں ان کو تقسیم کر کے پھر دَین کی تقسیم کی تو عین کی تقسیم صحیح ہے اور دَین کی باطل۔ دَین کی تقسیم باطل ہونے کا یہ نتیجہ ہو گا کہ ایک مدیون سے دَین وصول ہوا تو وہ تنہا اُسی کا نہیں ہوگا جس کے حصہ میں کر دیا گیا تھا بلکہ دوسرے ورثہ بھی اس میں شریک ہوں گے۔(5) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۹: تین بھائی ہیں جن کو اپنے باپ سے زمین میراث میں ملی ان میں سے ایک کا انتقال ہوا اس نے ایک لڑکا چھوڑا اس لڑکے اور اس کے دونوں چچاؤں کے مابین زمین تقسیم ہوئی یہ لڑکا تقسیم کے بعد یہ کہتا ہے کہ میرے دادا نے جو مورث اعلی تھا اس نے اس میں ایک ثلث(6)کی میرے لیے وصیت کی تھی اور تقسیم کو باطل کرنا چاہتا ہے اس کی یہ بات نامعتبر ہے کہ تناقض ہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ میرے باپ کے ذمہ میرا دَین ہے یہ بات سنی جائے گی اور گواہ لیے جائیں گے اگر گواہوں سے دَین ثابت ہو جائے تو تقسیم توڑ دی جائے گی۔ اس صورت میں چچا یہ نہیں کہہ سکتے کہ دَین تمہارے باپ کے ذمہ ہے اُس کا حصہ جو تمہیں ملا تم کو اختیار ہے کہ اسے دَین میں فروخت کر لو یا اپنے پاس رکھو تمہارا دَین تمہارے دادا کے ذمہ نہیں کہ پوری جائداد سے دَین وصول کیا جائے لہٰذا تقسیم کے توڑنے میں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ لڑکا کہہ سکتا ہے کہ تقسیم توڑنے میں فائدہ یہ ہے کہ مشترک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یعنی دوسرے وارثوں سے دَین وصول کر سکتا ہے۔

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثامن فی قسمۃ الترکۃ...إلخ،ج۵،ص۲۲۲.

3۔۔۔۔۔۔یعنی مَہرکامیت کے ذمہ باقی ہونے کا۔

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثامن فی قسمۃ الترکۃ...إلخ،ج۵،ص۲۲۲.

5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

6۔۔۔۔۔۔تہائی۔
Flag Counter