Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
277 - 357
دَین ہے اگر وہ دَین مستغرق ہے تو قاضی تقسیم کا حکم نہیں دے گا کہ ان لوگوں کا ترکہ میں حق ہی نہیں ہے اور اگر دَین غیر مستغرق ہے تو بقدرِ دَین الگ کر کے باقی کو تقسیم کر دے۔(1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۴: قاضی کے پاس تقسیم کی درخواست گزری اور قاضی کو معلوم نہیں کہ میت کے ذمہ دَین ہے تو ورثہ سے دریافت کرے اگر وہ کہیں نہیں ہے تو ان کی بات مان لی جائے گی اور اگر کہیں دَین ہے تو اس کی مقدار دریافت کرے پھر یہ دریافت کرے کہ میت نے کوئی وصیت کی ہے یا نہیں اگر وصیت کی ہے تو کسی معین چیز کی وصیت ہے یا وصیت مرسلہ ہے یعنی اپنے مال کی تہائی چوتھائی وغیرہ کی ہے کسی معین چیز سے تعلق نہیں ہے، اس کے بعد تقسیم کر دے گا اور اگر تقسیم کے بعد دَین ظاہر ہو توتقسیم توڑ دی جائے گی۔ یوہیں اگر قاضی نے دَین کو بغیر دریافت کیے تقسیم کر دی یہ تقسیم بھی توڑ دی جائے گی ہاں اگر ورثہ اپنے مال سے دَین ادا کردیں یا جس کا دَین ہے وہ معاف کر دے تو تقسیم نہ توڑی جائے۔ اور تقسیم توڑنا اس وقت ہے کہ دَین کے لیے ورثہ نے کچھ ترکہ جدا نہ کیا ہو اور اگر دَین کے لیے پہلے ہی سے جدا کر دیا ہو یا کل اموال کی تقسیم ہی نہ کی ہو تو تقسیم توڑنے کی کیا ضرورت۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۵: تقسیم کے بعد کوئی نیا وارث ظاہر ہوا یا معلوم ہوا کہ کسی کے لیے تہائی یا چوتھائی کی وصیت ہے تو تقسیم توڑکر ازسرنو تقسیم کی جائے اگرچہ ورثہ کہتے ہوں کہ ان کے حق ہم اپنے مال سے ادا کردیں گے ہاں اگر یہ وارث و موصیٰ لہ(3)بھی راضی ہو جائیں تو نہ توڑیں۔ اور اگر دَین ظاہر ہو یا یہ کہ کسی کے لیے ہزار روپے کی مثلاًوصیت مرسلہ کی ہے اور ورثہ اپنے مال سے دَین و وصیت ادا کرنے کو کہتے ہیں تو تقسیم نہ توڑی جائے دائن اورموصیٰ لہ کی رضامندی کی بھی ضرورت نہیں۔ اسی طرح اگر ایک ہی وارث نے دَین ادا کرنا اپنے ذمہ لیا اور ترکہ میں سے رجوع بھی نہ کریگا تو توڑی نہ جائے اور اگر واپس لینے کی شرط ہے یا اس سے خاموش ہے تو توڑ دی جائے مگر جبکہ بقیہ ورثہ اپنے مال سے ادا کرنے کو کہتے ہوں۔ (4)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۶: بعض ورثہ نے میت کا دَین ادا کر دیا تو وہ باقیوں سے رجوع کرسکتا ہے(5)یعنی جبکہ میت نے ترکہ چھوڑا ہو جس سے دَین ادا کیا جاسکے۔ ادا کرنے کے وقت اس نے رجوع کی شرط کی ہو یا نہ کی ہو دونوں کا ایک حکم ہے کیونکہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثامن فی قسمۃ الترکۃ...إلخ،ج۵، ص۲۲۱.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

3۔۔۔۔۔۔جس کے متعلق وصیت کی گئی۔

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثامن فی قسمۃ الترکۃ...إلخ،ج۵، ص۲۲۱.

5۔۔۔۔۔۔یعنی وصول کر سکتا ہے۔
Flag Counter