Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
276 - 357
کی متروکہ نہیں ہے بلکہ میری ہے اور اس کا سبب کچھ بھی بتائے مثلاًمیں نے میت سے خریدی ہے یا اُس نے ہبہ کی بہرحال یہ دعویٰ نامسموع ہے کہ اُس چیز کو تقسیم میں داخل کرنا یہ مشترک ہونے کا اقرار ہے پھر اپنی بتانا اس کے منافی ہے لہٰذا یہ دعویٰ قابل سماعت نہیں۔ (1)(ہدایہ) 

    مسئلہ ۲۹: ایک شخص مرا اور اُس نے کسی کو وصی مقرر کیا ہے اور ترکہ میں دَین غیر مستغرق ہے (2)وصی سے وُرثہ یہ کہتے ہیں کہ ترکہ میں سے بقدر دَین جدا کر کے باقی کو ان میں تقسیم کر دے وصی کو یہ اختیار ہے کہ تقسیم نہ کرے بلکہ بقدرِ دَین مشاع (3)فروخت کر دے۔ (4)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۰: میت نے دو شخصوں کو وصی کیا ہے دونوں نے مال کو تقسیم کر کے بعض ورثہ کا مال ایک نے رکھا اور بعض کا دوسرے نے یہ جائز نہیں۔ یوہیں ایک وصی کی عدم موجودگی میں دوسرے نے وُرَثہ کے مقابل میں تقسیم کی یہ بھی ناجائز ہے۔ (5)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۱: ورثہ مسلمان ہیں اور وصی کافر ذمی، اگرچہ اس کا وصی ہونا جائز ہے مگر اس کو وصیت سے خارج کر دینا چاہیے کیونکہ کافر کی جانب سے اس کا اطمینان نہیں ہے کہ وہ مسلمان کے ساتھ خیانت نہ کریگا بلکہ مسلمان کے ساتھ اس کی مذہبی عداوت بہت ممکن ہے کہ خیانت پر آمادہ کرے۔ مگر جدا کرنے سے پہلے اس نے تقسیم کی ہو تو یہ تقسیم صحیح ہے۔(6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۲: ایک وارث نے میت کے ذمہ دَین کا اقرار کیا دوسرے ورثہ انکار کرتے ہیں ترکہ ورثہ پر تقسیم کر دیا جائے جس نے اقرار کیا ہے اس کے حصہ سے دَین ادا کیا جائے۔ (7)(خانیہ) 

    مسئلہ ۳۳: میت کے ذمہ دَین تھا ورثہ نے جائداد تقسیم کر لی جس کا دین ہے وہ مطالبہ کرتا ہے تو تقسیم توڑی جاسکتی ہے دَین مُستَغرَق ہو یا غیر مستغرق۔ اور اگر قاضی کے پاس تقسیم کی درخواست کریں اور قاضی کو معلوم ہے کہ میت پر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،باب دعوی الغلط فی القسمۃ...إلخ،ج۲،ص۳۳۴.

2۔۔۔۔۔۔یعنی دَین(قرض) ترکہ سے کم ہے۔

3۔۔۔۔۔۔یعنی دَین کے برابر ترکہ مشترکہ۔

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب السابع فی بیان من یلی القسمۃ...إلخ،ج۵،ص۲۲۰.

5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.    6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فیما یدخل فی القسمۃ، ج۲،ص۲۱۴.
Flag Counter