کی متروکہ نہیں ہے بلکہ میری ہے اور اس کا سبب کچھ بھی بتائے مثلاًمیں نے میت سے خریدی ہے یا اُس نے ہبہ کی بہرحال یہ دعویٰ نامسموع ہے کہ اُس چیز کو تقسیم میں داخل کرنا یہ مشترک ہونے کا اقرار ہے پھر اپنی بتانا اس کے منافی ہے لہٰذا یہ دعویٰ قابل سماعت نہیں۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۹: ایک شخص مرا اور اُس نے کسی کو وصی مقرر کیا ہے اور ترکہ میں دَین غیر مستغرق ہے (2)وصی سے وُرثہ یہ کہتے ہیں کہ ترکہ میں سے بقدر دَین جدا کر کے باقی کو ان میں تقسیم کر دے وصی کو یہ اختیار ہے کہ تقسیم نہ کرے بلکہ بقدرِ دَین مشاع (3)فروخت کر دے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: میت نے دو شخصوں کو وصی کیا ہے دونوں نے مال کو تقسیم کر کے بعض ورثہ کا مال ایک نے رکھا اور بعض کا دوسرے نے یہ جائز نہیں۔ یوہیں ایک وصی کی عدم موجودگی میں دوسرے نے وُرَثہ کے مقابل میں تقسیم کی یہ بھی ناجائز ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: ورثہ مسلمان ہیں اور وصی کافر ذمی، اگرچہ اس کا وصی ہونا جائز ہے مگر اس کو وصیت سے خارج کر دینا چاہیے کیونکہ کافر کی جانب سے اس کا اطمینان نہیں ہے کہ وہ مسلمان کے ساتھ خیانت نہ کریگا بلکہ مسلمان کے ساتھ اس کی مذہبی عداوت بہت ممکن ہے کہ خیانت پر آمادہ کرے۔ مگر جدا کرنے سے پہلے اس نے تقسیم کی ہو تو یہ تقسیم صحیح ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: ایک وارث نے میت کے ذمہ دَین کا اقرار کیا دوسرے ورثہ انکار کرتے ہیں ترکہ ورثہ پر تقسیم کر دیا جائے جس نے اقرار کیا ہے اس کے حصہ سے دَین ادا کیا جائے۔ (7)(خانیہ)
مسئلہ ۳۳: میت کے ذمہ دَین تھا ورثہ نے جائداد تقسیم کر لی جس کا دین ہے وہ مطالبہ کرتا ہے تو تقسیم توڑی جاسکتی ہے دَین مُستَغرَق ہو یا غیر مستغرق۔ اور اگر قاضی کے پاس تقسیم کی درخواست کریں اور قاضی کو معلوم ہے کہ میت پر