Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
275 - 357
    مسئلہ ۲۵: ایک کے حصہ میں جو درخت ملا اس کی شاخیں دوسرے کے حصہ میں لٹک رہی ہیں ان شاخوں کو یہ شخص جبراً  نہیں کٹوا سکتا اسی طرح مکان کی تقسیم میں جو دیوار ایک کے حصہ میں پڑی اس پر دوسرے کی کڑیاں ہیں تودوسرے کو یہ حکم نہیں دیا جائے گا کہ اپنی کڑیاں اوٹھا لے مگر جب کہ تقسیم میں یہ شرط ہوچکی ہو کہ وہ اپنی کڑیاں اوٹھا لے گا۔(1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۶: زمین مشترک میں ایک شریک نے بغیر اجازت شریک مکان بنا لیا دوسرا یہ کہتا ہے کہ اس عمارت کو ہٹا لو تواس صورت میں زمین کو تقسیم کر دیا جائے اگر یہ عمارت اسی کے حصہ میں پڑی جس نے بنائی ہے فبہا اور اگر دوسرے کے حصہ میں پڑی تو ہوسکتا ہے کہ عمارت کی قیمت دے کر عمارت خود لے لے یا اس کو منہدم کرا دیا(2) جائے۔ زمین مشترک میں ایک نے درخت لگایا اس کا بھی وہی حکم ہے۔ اور اگر شریک کی اجازت سے مکان بنوایا یا پیڑ(3)لگائے اگر اپنے لیے یہ تعمیر کی ہے یا پیڑ لگایاہے اس کا بھی وہی حکم ہے کیونکہ مُعیر(4)کو اختیار ہوتا ہے کہ عاریت کو جب چاہے واپس لے سکتا ہے اور اگر اجازت اس لیے ہے کہ وہ عمارت یا درخت شرکت کا ہوگا تو بقدر حصہ اس سے مَصارف(5)وصول کرسکتا ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۷: ترکہ کی تقسیم کے بعد معلوم ہوا کہ میت کے ذمہ دَین ہے تو تقسیم توڑ دی جائے گی کیونکہ اگر دَین پورے ترکہ کی برابر ہے جب تو ظاہر ہے کہ یہ ترکہ وارثوں کی مِلک ہی نہیں تقسیم کیونکر کریں گے اور اگر دَین پورے ترکہ سے کم ہے جب بھی توڑی جائے کہ ترکہ کے ساتھ دوسروں کا حق متعلق ہے ہاں اگر میت کا متروکہ اس کے علاوہ بھی ہے جس سے دَین ادا کیا جاسکتا ہے تو جو کچھ منقسم ہوچکا ہے اس کی تقسیم باقی رہے گی۔ اگر دَین پورے ترکہ کی برابر تھا مگر جن کا تھا اونھوں نے معاف کر دیا یاوارثوں نے اپنے مال سے دَین ادا کر دیا تو ان صورتوں میں تقسیم نہ توڑی جائے کہ وہ سبب ہی باقی نہ رہا۔(7) (ہدایہ) 

    مسئلہ ۲۸: جن دو شخصوں نے تقسیم کی ان میں ایک نے یہ دعویٰ کیا کہ ترکہ میں دَین ہے اس کا یہ دعویٰ مسموع ہوگا تناقض قرار دے کر دعویٰ کو رد نہ کیا جائے۔ ہاں جن چیزوں کی تقسیم ہوئی ان میں سے کسی معین چیز کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ میت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث عشر فی المتفرقات،ج۵،ص۲۳۲.

و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ، مطلب: فی الرجوع عن القرعۃ،ج۹،ص۴۴۵۔۴۴۶.

2۔۔۔۔۔۔گرادیا۔        3۔۔۔۔۔۔درخت۔

4۔۔۔۔۔۔عاریت پر دینے والا۔    5۔۔۔۔۔۔اخراجات۔

6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ، مطلب: فی الرجوع عن القرعۃ،ج۹،ص ۴۴۶.

7۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، باب دعوی الغلط فی القسمۃ...إلخ،ج۲، ص ۳۳۴.
Flag Counter