اُس صورت میں ہے کہ استحقاق سے پہلے اس میں کا کچھ بیع نہ کیا ہو ورنہ تقسیم نہیں توڑی جائے گی بلکہ اپنے حصہ کی قدر شریک کے حصہ میں سے لے سکتا ہے و بس۔ تیسری صورت میں کہ کل میں جز و شائع کا مدعی ہے تقسیم فسخ کر دی جائے اور ان تینوں یعنی مستحق اور دونوں شریکوں کے مابین اَزسرنو تقسیم کی جائے گی۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: اِستحقاق کی ایک چوتھی صورت بھی ہے وہ یہ کہ ہر ایک کے حصہ میں مستحق نے اپنا حصہ ثابت کر دیا اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ہر ایک کے حصہ میں اس نے جز و شائع ثابت کیا اس کا حکم یہ ہے کہ تقسیم فسخ کر دی جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں میں جز و معیَّن ثابت کرے اس کا حکم یہ ہے کہ دونوں کے حصوں میں اس کا جو کچھ ہے اگر برابر ہے جب تو ظاہر ہے کہ مستحق کے لے لینے کے بعد ہر ایک کے پاس جو کچھ بچا وہ بقدر حصہ ہے لہٰذا نہ تقسیم توڑی جائے گی نہ رجوع کا حکم دیا جائے گا اور اگر مستحق کا حق ایک کے حصہ میں زائد ہے دوسرے کے حصہ میں کم تو اس زائد کی زیادتی کا اعتبار ہوگا کہ اسی کے حساب سے کم والے کے حصہ میں رجوع کریگا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: سو بکریاں دو شخصوں میں مشترک تھیں تقسیم اس طرح ہوئی کہ ایک کو چالیس بکریاں ملیں جن کی قیمت پانسو ہے اور دوسرے کو ساٹھ بکریاں دی گئیں یہ بھی پانسو کی قیمت کی ہیں چالیس والے کی ایک بکری میں کسی نے اپنا حق ثابت کیا کہ یہ میری ہے اور یہ بکری دس روپے قیمت کی ہے تو یہ شخص دوسرے سے پانچ روپے وصول کرسکتا ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: مکان یا زمین مشترک کا بٹوارا ہوا(4)ایک نے دوسرے کے حصہ میں ایک کمرہ کا دعوی کیا کہ یہ میرا ہے میں نے اسے بنایا ہے یا یہ درخت میرا ہے میں نے اسے لگایا ہے اور اپنی اس بات پر گواہ پیش کرتا ہے یہ گواہ نامقبول ہیں کہ عمارت یا درخت زمین کی تقسیم میں تبعاً داخل ہوگئے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: درخت یا عمارت کی تقسیم ہوئی اس کے بعد ایک نے پوری زمین کا یا اس کے جز کا دعویٰ کیا یہ دعویٰ جائز و مسموع ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ درخت یا عمارت مشترک ہو اور زمین مشترک نہ ہو اور زمین توابع میں بھی نہیں کہ تقسیم میں تبعًا داخل ہو جائے۔ (6)(ردالمحتار)