Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
273 - 357
اگر دونوں نے قسمیں کھالیں تو تقسیم فسخ کر دی جائے گی۔ اسی طرح اگر حدود میں اختلاف ہو مثلاًایک یہ کہتا ہے کہ یہ حد میری تھی جو اس کے حصہ میں جا پڑی اور دوسرا بھی یہی کہتا ہے کہ یہ حد میری تھی جو اس کے حصہ میں چلی گئی اگر دونوں گواہ پیش کریں تو ہر ایک کے گواہ اُس کے حق میں معتبر ہیں جو اس کے قبضہ میں نہ ہو اور اگر فقط ایک نے گواہ پیش کیے تو اسی کے موافق فیصلہ ہوگا اور کسی نے بھی گواہ نہیں پیش کیے تو دونوں پر حلف ہے۔ (1)(ہدایہ) 

    مسئلہ ۱۸: تقسیم میں چیزوں کی قیمتیں لگائی گئیں اب معلوم ہوا کہ قیمتوں میں بہت فرق ہے جس کو غبن فاحش کہتے ہیں یعنی اتنی کمی یا بیشی ہے جو اندازہ سے باہر ہے مثلاًجس چیز کی قیمت پانسو ہے اس کی ہزار روپے قیمت قرار دی یہ تقسیم توڑ دی جائے گی۔ قاضی نے اس کے متعلق فیصلہ کیا ہو یا دونوں کی رضامندی سے تقسیم ہوئی ہو بہرصورت توڑ دی جائے۔(2) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۹: دو شخصوں کی سو بکریاں تھیں تقسیم کے بعد ایک یہ کہتا ہے غلطی سے تم نے پچپن بکریاں لے لیں اور مجھے پینتالیس ہی ملیں دوسرا کہتا ہے غلطی سے نہیں بلکہ تقسیم اسی طرح ہوئی اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو دونوں پر حلف (3)ہے یہ اس وقت ہے کہ اُس نے اپنا پورا حق پالینے کا اقرار نہ کیا ہو اور اگر اقرار کرچکا ہو تو غلطی کا دعویٰ نامسموع (4)ہے۔ (5)(عالمگیری)
 (اِستحقاق کے مسائل)
    مسئلہ ۲۰: تقسیم ہو جانے کے بعد استحقاق ہوا یعنی کسی دوسرے شخص نے اس میں اپنی ملک کا دعویٰ کیا اس کی تین صورتیں ہیں۔ایک ۱؎ حصہ میں جزو معین کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ چیز میری ہے یا جزو۲؎ شا ئع کا دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے حصہ میں نصف یا تہائی میری ہے یا کل۳؎میں جز و شائع کا مدعی ہے یعنی پوری جائداد میں مثلاًنصف یا تہائی کا مدعی ہے۔ پہلی صورت میں کہ فقط ایک کے حصہ میں جز و معین کا استحقاق کرتا ہے اس میں تقسیم کو فسخ نہیں کیا جائے گا بلکہ مستحق نے جتنا اپنا ثابت کر دیا اس کو دے دیا جائے اور مابقی(6)اس کا ہے جس کے حصہ میں تھا اور اس کے حصہ میں جو کمی پڑی اسے شریک کے حصہ میں سے اوتنی دِلا دی جائے کہ اس کا حصہ سہام کے موافق ہو جائے دوسری صورت میں کہ ایک کے حصہ میں جز و شائع کا مدعی ہے اس میں حصہ والے کو اختیارہے کہ مُستحق کو دینے کے بعد جو کمی پڑتی ہے وہ شریک کے حصہ میں سے لے لے یا تقسیم توڑوا کر ازسرنو (7)تقسیم کرائے یہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، باب دعوی الغلط فی القسمۃ...إلخ،ج۲،ص۳۳۳.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۴.

3۔۔۔۔۔۔یعنی قسم اُٹھانا۔        4۔۔۔۔۔۔یعنی قابل قبول نہیں۔

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الحادی عشر فی دعوی الغلط... إلخ۵،ص ۲۲۶.

6۔۔۔۔۔۔باقی ماندہ۔        7۔۔۔۔۔۔نئے سرے سے۔
Flag Counter