مسئلہ ۱۴: تقسیم ہونے کے بعد ایک شریک یہ کہتا ہے کہ میرا حصہ مجھے نہیں ملا اور تقسیم کرنے والوں نے گواہی دی کہ اس نے اپنا حصہ وصول پالیا یہ گواہی مقبول ہے اور فقط ایک تقسیم کرنے والے نے شہادت دی تو گواہی مقبول نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: تقسیم کے بعد ایک شریک یہ کہتا ہے کہ فلاں چیز میرے حصہ میں تھی اور غلطی سے دوسرے کے پاس پہنچ گئی اور اس سے پہلے یہ اقرار کرچکا تھا کہ میں نے اپنا حصہ وصول پالیا یا وصول پانے کا اقرار نہ کیا ہو دونوں صورتوں میں اس کی بات جب ہی مانی جائے گی کہ اس کے قول کے صحیح ہونے پر دلیل ہو یعنی گواہوں سے ایسا ثابت کر دے یا دوسرا شریک اقرار کر لے کہ ہاں اس کے حصہ کی فلاں چیز میرے پاس ہے اور یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو اس کے شریک پر قسم دی جائے اور وہ قسم کھانے سے نکول(3)کرے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: تقسیم کے بعد کہتا ہے کہ مجھے میرا حصہ مل گیا تھا اور میں نے قبضہ بھی کر لیا تھا پھر میرے شریک نے اس میں سے فلاں چیز لے لی اور شریک اس سے انکار کرتا ہے اس کا حاصل یہ ہوا کہ شریک پر غصب کا دعویٰ کرتا ہے اور وہ انکار کرتا ہے اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو شریک پر حَلْف رکھا جائے۔ اور اگر وصول پانے کا اقرار نہیں کیا ہے صرف اتنی بات کہی ہے کہ یہاں سے یہاں تک میرے حصہ میں آئی مگر مجھے دی نہیں اور شریک اس کی تکذِیب کرتا ہے(5)تو دونوں کو حلف دیا جائے اور دونوں قسم کھا جائیں تو تقسیم فسخ کر دی جائے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: مکان دو شخصوں میں مشترک تھا دونوں نے اسے بانٹ لیا پھر ایک یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ کمرہ جو میرے شریک کے پاس ہے یہ میرے حصہ کا ہے اور دوسرا اس سے انکاری ہے تو مدّعِی کے ذمہ گواہ پیش کرنا ہے اور اگر دونوں نے گواہ پیش کیے تو مدّعِی کے گواہ مقبول ہوں گے اور اگر قبضہ کرنے پر گواہ نہ کیے ہوں تو دونوں پر حلف ہے اور اس صورت میں