کہ یہ تمہارا ہے اور یہ تمہارا تو اس میں بھی حرج نہیں کہ قاضی کے فیصلہ سے انکار کی گنجائش نہیں۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: قاضی یا نائب قاضی نے تقسیم کی ہو اور قرعہ ڈالا اور بعض کے نام نکل آئے تو کسی شریک کو انکار کی گنجائش نہیں جس طرح نام نکلنے سے پہلے اسے انکار کا حق نہ تھا اب بھی نہیں ہے۔ اور اگر باہم رضامندی سے تقسیم کر رہے ہوں اور قرعہ ڈالا گیا بعض نام نکل آئے تو بعض شرکا انکار کرسکتے ہیں اور اگر سب شرکا کے نام نکل آئے یا صرف ایک ہی نام باقی رہ گیا تو قسمت (2)مکمل ہوگئی اب رضامندی کی صورت میں بھی انکار کی گنجائش باقی نہیں۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: مکان کی تقسیم میں جب زمین کی پیمائش کر کے حصے قائم کریگا عمارت کی قیمت لگائے گا کیونکہ آگے چل کر اس کی بھی ضرورت پڑے گی مثلاًکسی کے حصہ میں اچھی عمارت آئی اور کسی کے حصہ میں خراب تو بغیر قیمت معلوم کیے کیونکر مُساوات(4)قائم رہے گی۔ (5)(ہدایہ)
مسئلہ ۵: اگر زمین و عمارت دونوں کی تقسیم منظور ہے اور عمارت کچھ اچھی ہے کچھ بُری یا ایک طرف عمارت زائد ہے اور ایک طرف کم اور ایک کو اچھی یا زیادہ عمارت ملے تو دوسرے کو زمین زیادہ دے کر وہ کمی پوری کر دی جائے اور اگر زمین زیادہ دینے میں بھی کمی پوری نہ ہو کہ ایک طرف کی عمارت ایسی اچھی یا اتنی زیادہ ہے کہ بقیہ کل زمین دینے سے بھی کمی پوری نہیں ہوتی تو یہ کمی روپے سے پوری کی جائے۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۶: مکان کی تقسیم میں ایک کا پرنالہ یا راستہ دوسرے کے حصے میں پڑا اگر تقسیم میں یہ شرط مذکور ہو کہ اس کاپرنالہ یا راستہ دوسرے کے حصہ میں ہوگا جب تو اس تقسیم کو بدستور باقی رکھا جائے گا اور شرط نہ ہو تو دو صورتیں ہیں اس حصہ کاراستہ وغیرہ پھیر کر دوسرا کیا جاسکتاہے یا نہیں اگر ممکن ہو تو راستہ وغیرہ پھیر کر دوسرا کر دیا جائے اور ناممکن ہو تو اس تقسیم کو توڑکر اَزسرنو تقسیم کی جائے۔ (7)(ہدایہ، درمختار)