| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
ایک ہی دھات کے ہوں اور سونا چاندی وغیرہما دھاتیں اگر ان کی کوئی چیز بنی ہوئی نہ ہو تو ان کی تقسیم میں تمام شرکا کی رضامندی درکار نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: چند مکانات مشترک ہوں تو ہر ایک کو جدا تقسیم کیا جائے گا یہ نہیں کیا جائے گا کہ تمام مکانات کو ایک چیز فرض کر کے تقسیم کریں کہ ایک کو ایک مکان دے دیا جائے دوسرے کو دوسرا۔ یہ سب مکانات ایک ہی شہر میں ہوں یا مختلف شہروں میں دونوں کا ایک حکم ہے۔ یوہیں اگر چند قطعات زمین مشترک ہوں تو ہر قطعہ کی تقسیم جداگانہ ہوگی۔ یوہیں اگر مکان و دکان و زمین سب چیزیں ہوں تو ہر ایک کو علیٰحدہ علیٰحدہ تقسیم کیا جائے۔(2) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۶: مشترک نالی یا پرنالہ ہے ایک تقسیم چاہتا ہے دوسرا اِنکار کرتا ہے اگر اس کے مکان میں ایسی جگہ ہے کہ بغیرضرر نالی یا پرنالہ ہوسکتا ہے تو تقسیم کر دیں ورنہ نہیں۔(3) (عالمگیری)طریقہ تقسیم
مسئلہ ۱: تقسیم کرنے والے کو یہ چاہیے کہ ہر شریک کے سِہام(4)جتنے ہوں انھیں پہلے لکھ لے اور زمین کی پیمائش کر کے ہر شریک کے سہام کے مقابل میں جتنی زمین پڑے صحیح طور پر قائم کرلے اور ہر حصہ کے لیے راستہ وغیرہ علیٰحدہ قائم کر دے تاکہ آئندہ جھگڑے کا احتمال نہ رہے اور ان حِصَص(5)پر ایک دو تین وغیرہ نمبر ڈال دے اور جمیع شرکا کے نام لکھ کر قرعہ اندازی کرے جس کا نام پہلے نکلے اوسے پہلا نمبر جس کا نام دوسری مرتبہ نکلے اسے نمبر دوم دے دے وعلیٰ ہذا القیاس۔ (6)(ہدایہ)
مسئلہ ۲: تقسیم میں قرعہ ڈالنا ضروریات میں نہیں بلکہ تَطْیِیْبِِ قلب(7)کے لیے ہے کہ کہیں حصہ داروں کو یہ وہم نہ ہو کہ فلاں کا حصہ میرے حصہ سے اچھا ہے اور قصداًایسا کیا گیا ہے اوّل تو تقسیم کرنے والا ہر حصہ میں مساوات کا ہی لحاظ رکھے گا پھر اس کے باوجود قرعہ بھی ڈالے گا تاکہ وہم ہی نہ پیدا ہوسکے اور اگر قاضی نے بغیر قرعہ ڈالے ہوئے خود ہی حصص کو نامزد کر دیاـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص۲۰۹. 2۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فیما یقسم...الخ،ج۲،ص۳۲۹. و''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۵،۴۳۶. 3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص۲۰۷. 4۔۔۔۔۔۔ حصے۔ 5۔۔۔۔۔۔حصوں۔ 6۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۲،ص۳۲۹. 7۔۔۔۔۔۔اطمینانِ قلب ۔