سے کہہ دیا کہ میری زمین خالی کر دو تو دیوارمُنہدم کرنی ہوگی اور ملبہ اگر قابل تقسیم ہے تو تقسیم کر دیا جائے گا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: ایک شریک یہ چاہتا ہے کہ اس مشترک چیز کو بیع کر دیا جائے اور دوسرا انکار کرتا ہے اس کو بیع کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: دکان مشترک قابل تقسیم نہ ہو ایک شریک یہ کہتا ہے کہ نہ اسے کرایہ پر دوں گا نہ باری مقرر کر کے اس سے نفع حاصل کروں گا یہاں باری مقرر کر دی جائے گی اور اس سے یہ کہہ دیا جائے گا کہ تم کو اختیار ہے اپنی باری میں دکان کو بند رکھو یا کسی کام میں لاؤ۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: زراعت مشترک ہے اگر دانے پڑ چکے ہیں مگر ابھی کاٹنے کے قابل نہیں ہے اس کی تقسیم نہیں ہوسکتی جب تک کھیت کٹ نہ جائے اگرچہ سب شرکا راضی ہوں۔ اور اگر کھیتی بالکل کچی ہے یعنی دانے پیدا نہیں ہوئے ہیں اور شرکا تقسیم پر راضی ہوں تو تقسیم ہوسکتی ہے مگر اس شرط سے کہ تقسیم کے بعد ہر ایک اپنا حصہ کاٹ لے یہ نہیں کہ پکنے تک کھیت ہی میں چھوڑ رکھے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: کپڑے کا تھان اپنی رضامندی سے پھاڑ کر تقسیم کرسکتے ہیں اس میں جبری تقسیم نہیں ہوسکتی۔ سلا ہوا کپڑا مثلاًکرتہ یا اَچکن (5)اس کی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ دو کپڑے مختلف قیمت کے ہوں ان کی بھی جبری تقسیم نہیں ہوسکتی اس لیے کہ جو کم درجہ کا ہے اس کے ساتھ روپیہ شامل کرنا ہوگا تاکہ دونوں جانب برابری ہو جائے اور یہ بات بغیر دونوں کی رضامندی کے ہو نہیں سکتی اور جب دونوں راضی ہوں تو تقسیم کر دی جائے گی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ایک ہی دھات کے مختلف قسم کے برتن مثلا ًدیگچی ،لوٹا، کٹورا، طَشت(7)ان کوبغیر رضامندی شرکا تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ یوہیں سونے یا چاندی یا پیتل یا اور کسی دھات کے زیور بغیر رضامندی تقسیم نہیں ہوں گے اگرچہ سب زیور