مسئلہ ۴: مکیل (1)و موزون (2)اور دیگر مثلی چیزوں میں تقسیم کے بعد ایک شریک اپنا حصہ دوسرے کی عدم موجودگی(3)میں لے سکتا ہے اور قیمی چیزوں میں چونکہ مبادَلہ کا پہلو غالب ہے تقسیم کے بعد ایک شریک دوسرے کی عدم موجودگی میں نہیں لے سکتا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۵: دو شخصوں نے چیز خریدی پھر اس کو باہم تقسیم کر لیا اب ایک شخص اپنا حصہ مرابحہ کے طور پر بیع کرنا چاہتا ہے یہ نہیں کرسکتا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۶: مکیل یا موزوں دو شخصوں میں مشترک ہے ان میں ایک موجود ہے دوسرا غائب ہے یا ایک بالغ ہے دوسرانابالغ ہے تقسیم کے بعد اُس موجود یا بالغ نے اپنا حصہ لے لیا یہ تقسیم اُس وقت صحیح ہے کہ دوسرے شریک یعنی غائب یا نابالغ کو اس کاحصہ پہنچ جائے اور اگر ان کو حصہ نہ ملا فرض کرو کہ ہلاک ہوگیا تو تقسیم باقی نہیں رہے گی ٹوٹ جائے گی یعنی جو شخص حصہ لے چکا ہے اُس حصہ کو ان دونوں کے مابین پھر تقسیم کیا جائے گا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۷: غیر مثلی چیزیں اگر ایک ہی جنس کی ہوں اور ایک شریک نے تقسیم کا مطالبہ کیا تو دوسرا شریک تقسیم پر مجبور کیا جائے گا یہ نہیں خیال کیا جائے گا کہ یہ مبادَلہ ہے اس میں رضامندی ضروری ہے البتہ شرکت کی لونڈی غلام میں جبریہ تقسیم نہیں ہے۔(7) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۸: بہتر یہ ہے کہ تقسیم کے لیے کوئی شخص حکومت کی جانب سے مقرر کر دیا جائے جس کو بیتُ المال سے وظیفہ دیا جائے اور اگر بیت المال سے وظیفہ نہ دیا جائے بلکہ اُس کی مناسب اُجرت شرکا کے ذمہ ڈال دی جائے یہ بھی جائزہے۔(8) (ہدایہ)
مسئلہ ۹: بانٹنے والے کی اُجرت تمام شرکا پر برابر برابر ڈالی جائے اُن کے حصوں کے کم زیادہ ہونے کا اعتبار نہ ہوگا