(1)
''جب تقسیم کے وقت رشتہ والے آجائیں۔''
اور احادیث اس بارہ میں بہت ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نےغنیمتوں اور میراثوں کی تقسیم فرمائی اور اس کے جواز پر اجماع بھی منعقد ہے۔
مسئلہ ۱: شرکت کی صورت میں ہر ایک شریک کی مِلک دوسرے کی مِلک سے ممتاز نہیں ہوتی اور ہر ایک کسی مخصوص حصہ سے نفع پر قادر نہیں ہوتا ان حصوں کو جدا کر دینے کا نام تقسیم ہے جب شرکا میں سے کوئی شخص تقسیم کی درخواست کرے تو قاضی پر لازم ہے کہ اُس کی درخواست قبول کرے اور تقسیم کر دے۔ (2)(عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: قاضی کو اُس کی درخواست قبول کرنا اُس وقت ضروری ہے کہ تقسیم سے اس چیز کی منفعت فوت نہ ہو یعنی وہ چیز جس کام کے لیے عرف میں ہے وہ کام تقسیم کے بعد بھی اس سے لیا جاسکے اور اگر تقسیم سے منفعت جاتی رہے مثلاًحمام کو اگر تقسیم کردیا جائے تو حمام نہ رہے گا اگرچہ اُس میں دوسرے کام ہوسکتے ہوں لہٰذا اس کی تقسیم سے منفعت فوت ہوتی ہے یہ تقسیم قاضی کے ذمہ لازم نہیں۔ جس چیز میں تقسیم سے منفعت فوت ہو اُس کی تقسیم اُس وقت کی جائے گی جب تمام شرکا تقسیم پر راضی ہوں۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: تقسیم میں اگرچہ ایک شریک کا حصہ دوسرے شرکا کے حصوں سے جدا کرنا ہے مگر اس میں مبادَلہ کا(4)پہلو بھی پایا جاتا ہے کیونکہ شرکت کی صورت میں ہر جز میں ہر ایک شریک کی مِلک(5)ہے اور تقسیم سے یہ ہوا کہ اس کے حصہ میں جو اس کی مِلک تھی اُس کے عوض میں اس حصہ میں جو اُس کی مِلک تھی حاصل کر لی۔ مثلی چیزوں میں جُدا کرنے کا پہلو غالب ہے اور قیمی میں مبادَلہ کا پہلو غالب۔(6) (درمختار)