مسئلہ ۲۳: ایسی ترکیب کرنا کہ شفعہ کا حق ہی نہ پیدا ہونے پائے امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک مکروہ ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں کہ اس میں کراہت نہیں قولِ امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۴: نابالغ بچہ کو بھی حق شفعہ حاصل ہوتا ہے بلکہ جو بچہ ابھی پیٹ میں ہے اوس کو بھی یہ حق حاصل ہے جب کہ جائداد کی خریداری سے چھ ماہ کے اندر پیدا ہوگیا ہو اور اگر شکم میں بچہ ہے اور اس کا باپ مرگیا اور یہ جائداد کا وارث ہوا اور اس کے باپ کے مرنے کے بعد جائداد فروخت ہوئی تو اگرچہ وقت خریداری سے چھ ماہ کے بعد پیدا ہوا ہو شفعہ کا بھی اسے حق ملے گا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: نابالغ کے لیے جب حق شفعہ ہے تو اس کا باپ یا باپ کا وصی یہ نہ ہو تو دادا پھر اس کے بعد اس کا وصی یہ بھی نہ ہو تو قاضی نے جس کو وصی مقرر کیا ہو وہ شفعہ کو طلب کریگا اور ان میں سے کوئی نہ ہو تو یہ خود بالغ ہو کر مطالبہ کریگا اور اگر ان میں سے کوئی ہو مگر اس نے قصدا ًطلب نہ کیا تو شفعہ کا حق جاتا رہا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: باپ نے ایک مکان خریدا اور اُس کا نابالغ لڑکا شفیع ہے اور باپ نے نابالغ کی طرف سے طلب شفعہ نہیں کی شفعہ باطل ہوگیا کہ خریدنا طلب شفعہ کے منافی نہ تھا اور اگر باپ نے مکان بیچا اور نابالغ لڑکا شفیع ہے اور باپ نے طلب نہ کی شفعہ باطل نہ ہوا کہ بیع کرنا طلب شفعہ کے منافی تھا اور اس صورت میں وہ لڑکا بعد بلوغ شفعہ طلب کرسکتا ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: باپ نے مکان غبن فاحش کے ساتھ خریدا تھا اس وجہ سے نابالغ کے لیے شفعہ طلب نہیں کیا کہ اُس کے مال سے نقصان کے ساتھ اُسے لینے کا حق نہ تھا اس صورت میں حق شفعہ باطل نہیں ہے وہ لڑکا بالغ ہو کر شفعہ کرسکتا ہے۔ (5)(عالمگیری)