نہ ہو بلکہ نصف کا ثمن کل کے ثمن کا نصف ہے تو شفعہ کرسکتا ہے مثلاًپہلے یہ خبر ملی تھی کہ پورا مکان ایک ہزارمیں فروخت ہوا اور اب یہ معلوم ہوا کہ نصف مکان پانسو میں فروخت ہوا تو شفعہ ہوسکتا ہے پہلے کی تسلیم مانع نہیں ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: شفیع نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ مکان جو فروخت ہوا ہے میرا ہی ہے بائع کا نہیں ہے شفعہ نہیں کرسکتا یعنی شفعہ باطل ہوگیا اور اگر پہلے شفعہ کا دعویٰ کیا اور اب کہتا ہے کہ میرا ہی مکان ہے یہ دعوےٰ نامقبول ہے۔(2) (خانیہ) اور اگر یوں کہا کہ یہ مکان میرا ہے اور میں اس کا شفیع ہوں اگر مالک ہونے کی حیثیت سے ملا تو ملا ورنہ شفعہ سے لوں گا اس طرح کہنے سے نہ شفعہ باطل ہوا نہ دعوائے مِلک باطل۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: جس جانب شفیع کا مکان یا زمین ہے اس جانب ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ تک ایک ہاتھ چھوڑ کر باقی مکان بیچ ڈالا یعنی جائداد مبیعہ اور جائداد شفیع میں فاصلہ ہوگیا اب شفعہ نہیں کرسکتا کہ دونوں میں اتصال ہی نہ رہا۔ یوہیں اگر ایک ہاتھ کی قدر یہاں سے وہاں تک مشتری کو ہبہ کر دیا اور قبضہ بھی دے دیا اس کے بعد باقی جائداد کو فروخت کیا تو شفعہ نہیں کرسکتا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: مکان کے سوسہام (5)میں سے ایک سہم پہلے خرید لیا باقی سہام کو بعد میں خریدا تو پروسی کا شفعہ صرف پہلے سہم میں ہوسکتا ہے کہ بعد میں جو کچھ خریدا ہے اُس میں خود مشتری شریک ہے۔ مشتری ان ترکیبوں سے شفعہ کا حق باطل کرسکتا ہے۔ (6)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۲: شفعہ ثابت ہو جانے کے بعد اس کے اسقاط کا حیلہ کرنا بالاتفاق مکروہ ہے مثلاًمشتری شفیع سے یہ کہے کہ تم شفعہ کر کے کیا کرو گے اگر تم اسے لینا ہی چاہتے ہو تو جتنے میں میں نے لیا ہے اتنے میں تمہارے ہاتھ فروخت کر دوں گا شفیع نے کہہ دیا ہاں یا کہا میں خرید لوں گا شفعہ باطل ہوگیا یا اس سے کسی مال پر مشتری نے مصالحت کر لی شفعہ بھی باطل ہوگیا اور مال بھی نہیں دینا پڑا۔ (7)(نہایہ وغیرہا)