کے لیے حق شفعہ تھا اُس کے باپ یا وصی نے تسلیم کی شفعہ باطل ہوگیا۔ (1)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲: طلب شفعہ کے لیے وکیل کیا تھا وکیل نے قاضی کے پاس شفعہ کی تسلیم کر دی یا یہ اقرار کیا کہ میرے موکل نے تسلیم کر دی ہے اس سے بھی شفعہ باطل ہو جائے گا اور اگر یہ تسلیم یا اقرار تسلیم قاضی کے پاس نہ ہو تو شفعہ باطل نہیں ہوگا مگر یہ وکیل وکالت سے خارج ہو جائے گا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳: جس شخص کے لیے تسلیم کا حق ہے اس کا سکوت بھی شفعہ کو باطل کر دیتا ہے مثلاًباپ یا وصی کا خاموش رہنا بھی مُبطِل(3)ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۴: مشتری نے شفیع کو کچھ دے کر مصالحت کر لی کہ شفعہ نہ کرے یہ صلح بھی باطل ہے کہ جو کچھ دینا قرار پایا ہے رشوت ہے اور اس صلح کی وجہ سے شفعہ بھی باطل ہوگیا۔ یوہیں اگر حق شفعہ کو مال کے بدلے میں بیع کیا یہ بیع بھی باطل ہے اور شفعہ بھی باطل ہوگیا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: شفیع نے مشتری سے یوں مصالحت کی نصف مکان مجھے اتنے میں دے دے یہ صلح صحیح ہے اور اگر یوں مصالحت کی کہ یہ کمرہ مجھے دے دے اس کے مقابل میں ثمن کا جو حصہ ہے وہ میں دوں گا تو صلح صحیح نہیں مگر شفعہ بھی ساقط نہ ہوگا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۶: شفیع نے مشتری سے اوس جائداد کا نرخ چکایا یا یہ کہا کہ میرے ہاتھ بیع تولیہ کر و یا اجارہ پر لیایا مشتری سے کہا میرے پاس ودیعت (7)رکھ دویا میرے لیے ودیعت رکھ دویا میرے لیے اس کی وصیت کردو یا مجھے صدقہ کے طور پر دے دو ان سب صورتوں میں شفعہ کی تسلیم ہے۔(8) (عالمگیری)