جب تقابض بدلین ہو جائے یعنی اس نے اس کی چیز اور اس نے اس کی چیز پر قبضہ کر لیا اور فقط ایک نے قبضہ کیا ہو دوسرے نے قبضہ نہیں کیا ہو تو شفعہ نہیں ہوسکتا اور فرض کرو ایک نے ہی قبضہ کیا اور شفیع نے شفعہ کی تسلیم کر دی تو دوسرے کے قبضہ کے بعد شفعہ کرسکتا ہے کہ وہ پہلی تسلیم صحیح نہیں کہ قبل از وقت ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۶: بیع فاسد کے ذریعہ سے ایک مکان خریدا اس کے بعد اس مکان کے پہلو میں دوسرا مکان فروخت ہوا اگر وہ مکان اول ابھی تک بائع ہی کے قبضہ میں ہے تو بائع شفعہ کرسکتا ہے کیوں کہ بیع فاسد سے بائع کی مِلک زائل نہیں ہوئی اور اگر مشتری کو قبضہ دے دیا ہے تو مشتری شفعہ کرسکتا ہے کہ اب یہ مالک ہے اور اگر بائع کا قبضہ تھا اور اس نے شفعہ کا دعویٰ کیا تھا اور قبل فیصلہ مشتری کو قبضہ دے دیا شفعہ باطل ہوگیا اور فیصلہ کے بعد مشتری کے قبضہ میں دیا تو جائدادِ مَشفوعہ(2)پر اس کا کچھ اثر نہیں اوراگر مشتری کا قبضہ تھا اور مشتری نے شفعہ کا دعویٰ بھی کیا تھا اور قبل فیصلہ بائع نے مشتری سے واپس لے لیا تومشتری کا دعویٰ باطل ہوگیا اور بعد فیصلہ بائع نے واپس لیا تو اس کا کچھ اَثر نہیں یعنی مشتری اس مکان کا مالک ہے جس کو بذریعہء شفعہ حاصل کیا۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۷: جائداد فروخت ہوئی اور شفیع نے شفعہ سے انکار کر دیا پھر مشتری نے خیار رویت یا خیار شرط کی وجہ سے واپس کر دی یا اس میں عیب نکلا اور حکم قاضی سے واپس ہوئی تو اس واپسی کو بیع قرار دے کر شفیع شفعہ نہیں کرسکتا کہ یہ واپسی فسخ ہے بیع نہیں ہے اور اگر عیب کی صورت میں بغیر حکم قاضی بائع نے خود واپس لے لی تو شفعہ ہوسکتا ہے کہ حق ثالث میں یہ بیع جدید ہے۔ یوہیں اگر بیع کا اقالہ ہوا تو شفعہ ہوسکتا ہے۔ (4)(درمختار)