قابل تقسیم نہ ہو جیسے چکی کا مکان اور حمام اور کوآں اور چھوٹی کوٹھری کہ یہ چیزیں اگرچہ قابل تقسیم نہیں ہیں ان میں بھی شفعہ ہوسکتاہے۔ جائداد منقولہ میں شفعہ نہیں ہوسکتا لہٰذا کشتی اور صرف عمارت یا صرف درخت کسی نے خریدے ان میں شفعہ نہیں ہوسکتا اگرچہ یہ طے پایا ہو کہ عمارت اور درخت برقرار رہیں گے ہاں اگر عمارت یا درخت کو زمین کے ساتھ فروخت کیا تو تبعاً ان میں بھی شفعہ ہوگا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲: جائداد غیر منقولہ کو نکاح کامَہر قرار دیا یا عورت نے اُس کے عوض میں خلع کرایا یا کسی چیز کی اُجرت اُس کو قراردیا یا دم عمد کا اُسے بدل صلح قرار دیا یا وراثت میں ملی یا کسی نے بطور صدقہ دے دی یا ہبہ کی بشرطیکہ ہبہ میں عوض کی شرط نہ ہو توشفعہ نہیں ہوسکتا کہ ان سب صورتوں میں مال کے عوض میں ملک نہیں حاصل ہوئی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳: کسی شخص پر ایک چیز کا دعویٰ تھا اس نے اپنا مکان دے کر مدعی سے صلح کر لی اس پر شفعہ ہوسکتا ہے اگرچہ یہ صلح انکار یا سکوت (3)کے بعد ہو کیونکہ مدعی اس کو اپنے اس حق کے عوض میں لینا قرار دیتا ہے اور شفعہ کا تعلق اسی مدعی سے ہے لہٰذا مدعی ا علیہ کے انکار کا اعتبار نہیں اور اگر اسی مکان کا دعویٰ تھا اور مدعی ا علیہ نے اقرار کے بعد کچھ دے کر مدعی سے صلح کر لی تو شفعہ ہوسکتا ہے کہ یہ صلح حقیقۃً اُن داموں کے عوض اس مکان کو خریدنا ہے اور اگرمدعیٰ علیہ نے انکار یا سکوت کے بعد صلح کی تو شفعہ نہیں ہوسکتا کہ یہ صلح بیع کے حکم میں نہیں ہے بلکہ کچھ دے کر جھگڑا کاٹنا ہے۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: اگر بیع میں بائع نے اپنے لیے خیار شرط کیا ہو تو جب تک خیار ساقط نہ ہو شفعہ نہیں ہوسکتا کہ خیار ہوتے ہوئے مبیع مِلکِ بائع سے خارج ہی نہ ہوئی شفعہ کیونکر ہو اور صحیح یہ ہے کہ شفعہ کی طلب خیار ساقط ہونے پر کی جائے اور اگر مشتری نے اپنے لیے خیار شرط کیا تو شفعہ ہوسکتا ہے کیونکہ مبیع مِلکِ بائع سے خارج ہوگئی اور اندرون مدت خیار شفیع نے لے لیا تو بیع واجب ہوگئی اور شفیع کے لیے خیار شرط نہیں حاصل ہوگا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: بیع فاسد میں اُس وقت شفعہ ہوگا جب بائع کا حق منقطع ہو جائے یعنی اُسے واپس لینے کا حق نہ رہے مثلاًاس جائداد میں مشتری نے کوئی تصرّف کر لیا نئی عمارت بنائی اب شفعہ ہوسکتا ہے اور ہبہ بشرط ِالعوض (6)میں اُس وقت شفعہ ہوسکتا ہے