اور ثمن میعاد پوری ہونے پر ادا کرے۔ مگر دوسری صورت میں جو انتظار کرنے کے لیے کہا گیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ شفعہ طلب کرنے میں انتظار کرے اگر طلب شفعہ میں دیر کریگا تو شفعہ ہی باطل ہو جائے گا بلکہ شفعہ تو اسی وقت طلب کریگا اور چیز اُس وقت لے گا جب میعاد پوری ہوگی۔ اور پہلی صورت میں کہ اسی وقت ثمن ادا کر کے لے اگر اس نے وہ ثمن بائع کو دیا تو مشتری سے بائع کا مطالبہ ساقط ہوگیا اور اگر مشتری کو دیا تو مشتری کو اختیار ہے کہ وہ بائع کو اُس وقت دے جب میعاد پوری ہو جائے بائع اُس سے ابھی مطالبہ نہیں کرسکتا۔ (1)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۹: مشتری نے جدید تعمیر کی یا زمین میں درخت نصب کر دیے اور بذریعہ شفعہ یہ جائداد شفیع کو دلائی گئی تو وہ مشتری سے یہ کہے کہ اپنی عمارت توڑ کر اور درخت کا ٹ کر لے جائے اور اگر عمارت توڑنے اور درخت کھودنے میں زمین خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو اس عمارت کو توڑنے کے بعد اور درخت کاٹنے کے بعد جو قیمت ہو وہ قیمت مشتری کو دیدے اور ان چیزوں کو خود لے لے۔(2) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۰: مشتری نے اُس زمین میں کاشت کی اور فصل طیار ہونے سے پہلے شفیع نے شفعہ کر کے لے لی تو مشتری کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا کہ اپنی کچی کھیتی کاٹ لے بلکہ شفیع کو فصل طیارہونے تک انتظار کرنا ہوگا اور اس زمانے کی اُجرت بھی مشتری سے نہیں دلائی جائے گی۔ ہاں اگر زراعت سے زمین میں کچھ نقصان پیدا ہوگیا تو بقدر نقصان ثمن میں سے کم کر کے بقیہ ثمن شفیع ادا کریگا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: مشتری نے مکان میں روغن کر لیایا رنگ کرایا یا سفیدی کرائی یا پلاستر کرایا تو ان چیزوں کی وجہ سے مکان کی قیمت میں جو کچھ اضافہ ہوا شفیع کو یہ بھی دینا ہوگااور اگر نہ دینا چاہے تو شفعہ چھوڑ دے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص نے مکان خریدا اور اُسے خود اسی مشتری نے مُنہدِم کر دیا (5)یا کسی دوسرے شخص نے مُنہَدِم کر دیا