یعنی شفیع پورا ثمن دے اور قبضہ سے پہلے ثمن کا کچھ حصہ ہبہ کیا تو شفیع سے یہ رقم ساقط ہو جائے گی۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: بائع نے ایک شخص کو بیع کا وکیل کیا اُس وکیل نے عقد کے بعد مشتری سے ثمن کا کچھ حصہ کم کر دیا اگرچہ یہ کمی مشتری کے حق میں معتبر ہے کہ اُس سے یہ حصہ کم ہو جائے گا مگر اس کمی کا وکیل ضامن ہے یعنی بائع کو پورا ثمن یہ دے گا لہٰذا شفیع کے حق میں اس کمی کا اعتبار نہیں۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: شفیع کو معلوم تھا کہ ایک ہزار میں مشتری نے خریدا ہے اس نے ہزار دے دیے اس کے بعد بائع نے سو روپے کی مشتری سے کمی کر دی تو یہ رقم شفیع سے بھی کم ہو جائے گی یعنی شفعہ سے پہلے بائع نے کم کیا یا بعد میں دونوں کا ایک حکم ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۶: مشتری نے عقد کے بعد ثمن میں اضافہ کیا یہ زیادتی بھی اصل عقد کے ساتھ لاحق ہوگی مگر شفیع کا حق پہلے ثمن کے ساتھ متعلق ہوچکا اور شفیع پر یہ زیادتی لازم کرنے میں اُس کا ضرر ہے لہٰذا اس کا اعتبار نہیں شفیع کو وہ چیز پہلے ہی ثمن میں مل جائے گی۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۷: مشتری نے جائداد کو مثلی چیز کے عوض میں خریدا ہے تو شفیع اُس کی مثل دے کر جائداد کو حاصل کرسکتا ہے اور قیمی چیز کے عوض میں خریدا ہے تو اس چیز کی بیع کے وقت جو قیمت تھی شفیع کو وہ دینی ہوگی اور اگر جائداد غیر منقولہ(5)کو جائداد غیر منقولہ کے عوض میں خریدا ہے مثلاًاپنے مکان کے عوض میں دوسرا مکان خریدا اور فرض کرو دونوں مکان کے دو شفیع ہوں اور دونوں نے بذریعہ شفعہ لینا چاہا تو اُس مکان کی قیمت کے بدلے میں اس مکان کو لے گا اور اس کی قیمت کے عوض میں اس کو لے گا۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۸: عقد بیع میں ثمن کی ادا کے لیے کوئی میعاد مقرر تھی تو شفیع کو اختیار ہے کہ ابھی ثمن دے کر مکان لے لے اور چاہے تو میعاد پوری ہونے کا انتظار کرے جب میعاد پوری ہو اُس وقت ثمن ادا کر کے چیز لے اور یہ نہیں کرسکتا کہ چیز تو اب لے