| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
دونوں آگے پیچھے خریدے ہیں یعنی دو عقدوں میں خریدے ہیں لہٰذا دوسرے مکان میں تمہیں شفعہ کرنے کا حق نہیں شفیع یہ کہتا ہے کہ دونوں مکان تم نے ایک عقد کے ذریعہ سے خریدے ہیں اور مجھے دونوں میں شفعہ کا حق ہے اس صورت میں مشتری کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ دو عقدوں کے ذریعہ خریدا ہے ورنہ قول شفیع کا معتبر ہوگا۔ یوہیں اگر مشتری یہ کہتا ہے کہ میں نے نصف مکان پہلے خریدا اس کے بعد نصف خریدا اور شفیع یہ کہتا ہے کہ پورا مکان ایک عقد سے خریدا ہے تو شفیع کا قول معتبر ہے اور اگر مشتری یہ کہتا ہے کہ پورا مکان میں نے ایک عقد سے خریدا ہے اور شفیع یہ کہتا ہے کہ آدھا آدھا کر کے دو مرتبہ میں لہٰذا میں صرف نصف مکان پر شفعہ کرتا ہوں تو اس میں مشتری کا قول معتبر ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: شفیع یہ کہتا ہے کہ مشتری نے مکان کا ایک حصہ مُنہدِم کر دیا اور مشتری اس سے انکار کرتا ہے تو مشتری کا قول معتبر ہے اور گواہ شفیع کے معتبر ہوں گے۔ (2)(عالمگیری)جائداد کتنے داموں میں شفیع کو ملے گی
یہ بیان کیا جاچکا کہ مشتری نے جن داموں میں جائداد خریدی ہے شفیع کو اوتنے ہی میں ملے گی مگر بعض مرتبہ عقد کے بعد ثمن میں کمی بیشی کر دی جاتی ہے اور بعض مرتبہ اُس چیز میں کمی بیشی ہو جاتی ہے یہاں یہ بیان کرنا ہے کہ اس کمی بیشی کا اثر شفیع پر ہوگا یا نہیں۔
مسئلہ ۱: اگر بائع نے عقد کے بعد ثمن میں کچھ کمی کر دی تو چونکہ یہ کمی اصل عقد کے ساتھ ملحق ہوتی ہے جس کا بیان کتاب البیوع(3)میں گزر چکا ہے لہٰذا شفیع کے حق میں بھی اس کمی کا اعتبار ہوگا یعنی اس کمی کے بعد جو کچھ باقی ہے اُس کے بدلے میں شفیع اس جائداد کو لے گا اور اگر بائع نے پورا ثمن ساقط کر دیا تو اس کا اعتبار نہیں یعنی شفیع کو پورا ثمن دینا ہوگا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۲: بائع نے پہلے نصف ثمن کم کر دیا اس کے بعد بقیہ نصف بھی ساقط کر دیا تو شفیع سے نصف اول ساقط ہوگیا اور بعد میں جو ساقط کیا ہے یہ دینا ہوگا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۳: بائع نے مشتری کو ثمن ہبہ کر دیا اس کی دو صورتیں ہیں ثمن پر قبضہ کرنے کے بعد ہبہ کیا ہے تو اس کا اعتبار نہیںـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب العاشر فی الإختلاف...إلخ،ج۵،ص۱۸۹. 2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 3۔۔۔۔۔۔بہار شریعت ،ج۲،حصہ ۱۱۔ 4۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،فصل فیما یؤخذ بہ المشفوع،ج۲،ص۳۱۵. 5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۸۴.