مسئلہ ۳۴: ایک شخص نے اپنی جائداد بیع کی ،شفیع نے بائع و مشتری دونوں کے سامنے شفعہ طلب کیا بائع نے کہا یہ بیع معاملہ یعنی فرضی بیع ہوئی ہے اور مشتری نے بھی بائع کی تصدیق کی ان دونوں کا یہ قول شفیع کے مقابل میں نامعتبر ہے بلکہ اگروہ یہ کہتا ہے کہ جائز بیع ہوئی ہے تو شفعہ کرسکتا ہے مگر جبکہ ظاہر حال سے یہی سمجھا جاتا ہو کہ فرضی بیع ہے مثلاًاوس چیز کی قیمت بہت زیادہ ہو اور تھوڑے داموں میں بیع ہوئی کہ ایسی چیز ان داموں میں نہ بکتی ہو تو اُنھیں دونوں کی بات معتبر ہے اورشفعہ نہیں ہوسکتا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: جائداد تین شخصوں کی شرکت میں ہے اُن میں سے دو شخصوں نے یہ شہادت دی کہ ہم تینوں نے یہ جائداد فلاں شخص کے ہاتھ بیع کر دی ہے اور وہ شخص بھی کہتا ہے کہ میں نے خرید لی ہے مگر وہ تیسرا شریک بیع سے انکار کرتا ہے اُن کی گواہی شریک کے خلاف نامعتبر ہے مگر شفیع اون دونوں کے حصوں کو شفعہ کے ذریعہ سے لے سکتا ہے اور اگر مشتری خریدنے سے انکار کرتا ہے اور یہ تینوں شرکا بیع کی شہادت دیتے ہیں تو ان کی یہ گواہی بھی باطل ہے مگر شفیع پوری جائداد کو بذریعہ شفعہ لے سکتا ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: ایک ہزار میں مکان خریدا اُس پر شفعہ کا دعویٰ ہوا مشتری یہ کہتا ہے کہ اس مکان میں میں نے یہ جدید تعمیر کی ہے اور شفیع منکر ہے(3)اس میں مشتری کا قول معتبر ہے اور دونوں نے گواہ پیش کیے تو گواہ شفیع ہی کے معتبر ہوں گے۔ یوہیں اگر زمین خریدی ہے اور مشتری یہ کہتا ہے کہ میں نے اس میں یہ درخت نصب کیے ہیں(4)اور شفیع انکار کرتا ہے تو قول مشتری کا معتبر ہے اور گواہ شفیع کے مگر ان دونوں صورتوں میں یہ ضرور ہے کہ مشتری کا قول ظاہر کے خلاف نہ ہو مثلاًدرختوں کی نسبت کہتا ہے میں نے کل نصب کیے ہیں حالانکہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت دنوں کے ہیں یا عمارت کو کہتا ہے کہ میں نے اب بنائی ہے اور وہ عمارت پرانی معلوم ہوتی ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: مشتری کہتا ہے میں نے صرف زمین خریدی ہے اس کے بعد بائع نے یہ عمارت مجھے ہبہ کر دی ہے یا یہ کہ پہلے اس نے مجھے عمارت ہبہ کر دی تھی اس کے بعد میں نے زمین خریدی اور شفیع یہ کہتاہے تم نے دونوں چیزیں خریدی ہیں یہاں مشتری کا قول معتبر ہے شفیع اگر چاہے تو اُس کو بذریعہ شفعہ لے لے جو مشتری نے خریدا ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: دو مکان خریدے اور ایک شخص دونوں کا جار ملاصق (7)ہے وہ شفعہ کرتا ہے مشتری یہ کہتا ہے کہ میں نے