اوراگردوسری صورت ہے یعنی پہلے قبضہ کا اقرار ہے پھر مقدار ثمن کا مثلاًیوں کہا کہ مکان میں نے بیچ دیا اور ثمن پر قبضہ کر لیا اور ثمن ایک ہزار ہے تو اس صورت میں مشتری کی بات معتبر ہے۔(1) (ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۳۰: مشتری یہ کہتا ہے کہ میں نے ثمن معجل کے عوض میں خریدا ہے یعنی ثمن ابھی واجب الادا ہے اور شفیع کہتا ہے کہ ثمن مؤجل کے عوض میں خریدا ہے یعنی فوراً واجب الادا نہیں ہے اُس کے لیے کوئی میعاد(2)مقرر ہے تو مشتری کا قول معتبر ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: مشتری یہ کہتا ہے کہ یہ پورا مکان میں نے دو عقد کے ذریعہ سے خریدا ہے یعنی پہلے یہ حصہ اتنے میں خریدااُس کے بعد یہ حصہ اتنے میں خریدا اور شفیع یہ کہتا ہے کہ تم نے پورا مکان ایک عقد سے خریدا ہے تو شفیع کا قول معتبر ہے اور اگر کسی کے پاس گواہ ہوں تو گواہ مقبول ہیں اور اگر دونوں گواہ پیش کریں اور گواہوں نے وقت نہیں بیان کیا تو مشتری کے گواہ معتبر ہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: ایک شخص نے مکان خریدا شفیع نے شفعہ کا دعویٰ کیا اور مشتری نے اُس کا ثمن ایک ہزار بتایا تھا شفیع نے ایک ہزار دے کر لے لیا پھر شفیع کو گواہ ملے جو کہتے ہیں اُس نے پانسو میں خریدا تھا یہ گواہ سنے جائیں گے اور اگر مشتری کے کہنے کی شفیع نے تصدیق کر لی تھی تو اب یہ گواہ نہیں سنے جائیں گے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: بائع و مشتری(6)اس پر متفق ہیں کہ اس بیع میں بائع کو خیار شرط ہے اور شفیع اس سے انکار کرتا ہے تو اُنھیں دونوں کی بات معتبر ہے اور شفیع کو شفعہ کا حق حاصل نہیں اور اگر بائع شرط خیار کا مدعی(7)ہے اور مشتری و شفیع دونوں اس سے انکار کرتے ہیں تو مشتری کا قول معتبر ہے اور شفیع کو حق شفعہ حاصل ہے اور اگر مشتری شرط خیار کا مدعی ہے اور بائع و شفیع دونوں انکار کرتے ہیں تو بائع کا قول معتبر ہے اور شفعہ ہوسکتا ہے۔(8) (عالمگیری)