مسئلہ ۲۶: مشتری یہ کہتا ہے کہ شفیع کو جس وقت بیع کا علم ہوا اُس نے طلب نہیں کی اور شفیع کہتا ہے میں نے اُسی وقت طلب کی تو شفیع کو گواہوں سے ثابت کرنا ہوگا اور گواہ نہ ہوں تو قسم کے ساتھ مشتری کا قول معتبر ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: شفیع و مشتری میں ثمن کا اختلاف ہے اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو قسم کے ساتھ مشتری کا قول معتبر ہے اور اگر دونوں گواہ پیش کریں تو گواہ شفیع کے معتبر ہوں گے۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۸: مشتری نے دعویٰ کیا کہ ثمن اتنا ہے اور بائع نے اُس سے کم ثمن کا دعویٰ کیا اس کی دو صورتیں ہیں بائع نے ثمن پر قبضہ کیا ہے یا نہیں۔ اگر قبضہ نہیں کیا ہے تو بائع کا قول معتبر ہے یعنی اُس نے جو کچھ بتایا شفیع اوتنے ہی میں لے گا۔ اور اگر بائع ثمن پر قبضہ کرچکا ہے تو مشتری کا قول معتبر ہے یعنی اگر شفیع لینا چاہے تو وہ ثمن ادا کرے جس کو مشتری بتاتا ہے اور بائع کی بات نامعتبر ہے کہ جب وہ ثمن لے چکا ہے تو اس معاملہ میں اُس کا تعلق ہی کیا ہے۔ اور اگر بائع ثمن زیادہ بتاتا ہے اور مشتری کم بتاتا ہے اور یہ اختلاف بائع کے ثمن وصول کر لینے کے بعد ہے تو مشتری کی بات معتبر ہے اور ثمن پر قبضہ کرنے سے پہلے یہ اختلاف ہے تو بائع و مشتری دونوں پر حلف ہے جو حلف سے انکار کر دے اُس کے مقابل کی معتبر ہے اور اگر دونوں نے حلف کر لیا تو دونوں یعنی بائع و مشتری کے مابین بیع فسخ کر دی جائے گی مگر شفیع کے حق میں یہ بیع فسخ نہیں ہوگی وہ چاہے تو اُتنے ثمن کے عوض میں(3)لے سکتا ہے جس کو بائع نے بتایا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۹: بائع کا ثمن پر قبضہ کرنا ظاہر نہ ہو اور مقدارِ ثمن میں اختلاف ہو اس کی دو صورتیں ہیں۔ بائع نے ثمن پر قبضہ کرنے کا اقرار کیا ہے یا نہیں اگر اقرار نہیں کیا ہے تو اس کا حکم وہی ہے جو قبضہ نہ کرنے کی صورت میں ہے۔ اور اگر اقرار کر لیا ہے اور مشتری زیادہ کا دعویٰ کرتا ہے اور جائداد اس کے قبضہ میں ہے تو اس کی پھر دو صورتیں ہیں پہلے مقدار ثمن کا اقرار کیا پھر قبضہ کا یا اس کا عکس ہے یعنی پہلے قبضہ کا اقرار کیا پھر مقدار کا اگر پہلی صورت ہے مثلاًیوں کہا کہ اس مکان کو میں نے ہزار روپے میں بیچا اور ثمن پر قبضہ پالیا شفیع ایک ہزار میں لے گا اور مشتری جو ایک ہزار سے زیادہ ثمن بتاتا ہے اُس کا اعتبار نہیں