Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
246 - 357
    مسئلہ ۲۲: شفعہ کا دعویٰ مشتری پر مطلقاً ہوسکتا ہے اس نے جائداد پر قبضہ کیا ہو یا نہ کیا ہو اُس کو مدعیٰعلیہ بنایا جاسکتا ہے اور بائع کو بھی مدعی ا علیہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ جائداد اب تک بائع کے قبضہ میں ہو مگر بائع کے مقابل میں گواہ نہیں سنے جائیں گے جب تک مشتری حاضر نہ ہو۔ یوہیں اگر بائع پر دعویٰ ہوا تو جب تک مشتری حاضر نہ ہو حق مشتری میں وہ بیع فسخ نہیں کی جائے گی اور اگر مشتری کا قبضہ ہوچکا ہو تو بائع کے حاضر ہونے کی ضرورت نہیں۔ (1)(ہدایہ، درمختار) 

    مسئلہ ۲۳: بائع کے قبضہ میں جائداد ہو تو بائع پر قاضی شفعہ کا فیصلہ کریگا اور اُس کی تمام تر ذمہ داری بائع پر ہوگی یعنی جائداد مشفوعہ میں اگر کسی دوسرے کا حق ثابت ہو اور اس نے لے لی تو ثمن کی واپسی بائع کے ذمہ ہے اور اگر جائداد پر مشتری کا قبضہ ہوچکا ہے تو ذمہ داری مشتری پر ہوگی یعنی جب کہ مشتری نے بائع کو ثمن ادا کر دیا ہے اور شفیع نے مشتری کو ثمن دیا اور اگر ابھی مشتری نے ثمن ادا نہیں کیا ہے شفیع نے بائع کو ثمن دیا تو بائع ذمہ دار ہے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۴: شفیع کو خیار رویت اور خیار عیب حاصل ہے یعنی اگر اُس نے جائداد مشفوعہ نہیں دیکھی ہے تو دیکھنے کے بعد لینے سے انکار کرسکتا ہے۔ یوہیں اگر اُس میں کوئی عیب ہے تو عیب کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے کیونکہ شفعہ کے ذریعہ سے جائداد کا ملنا بیع کا حکم رکھتا ہے لہٰذا بیع میں جس طرح یہ دونوں خیار حاصل ہوتے ہیں یہاں بھی ہوں گے اور اگرمشتری نے عیب سے براء ت کر لی ہے کہہ دیا ہے کہ اس میں کوئی عیب نکلے تو اس کی ذمہ داری نہیں اس صورت میں بھی عیب کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے۔ مشتری کا براء ت قبول کرنا کوئی چیز نہیں۔(3) (ہدایہ) 

    مسئلہ ۲۵: شفعہ میں خیار شرط نہیں ہوسکتا نہ اس میں ثمن ادا کرنے کے لیے کوئی میعاد مقرر کی جاسکتی نہ اس میں غرر یعنی دھوکے کی وجہ سے ضمان لازم ہوسکتا ہے یعنی مثلاًشفیع نے اُس جائداد میں کوئی جدید تعمیر کی اس کے بعد مستحق نے دعویٰ کیا کہ یہ جائداد میری ہے اور وہ جائداد مستحق کو مل گئی تو تعمیر کی وجہ سے شفیع کا جو کچھ نقصان ہوا وہ نہ بائع سے لے سکتا ہے نہ مشتری سے کہ اس نے یہ جائداد جبراً وصول کی ہے انھوں نے اپنے قصد و اختیار سے اسے نہیں دی ہے کہ وہ اس کے نقصان کا ضمان دیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۳۱۳.

و''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۹.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ، مطلب:طلب عند القاضی...إلخ،ج۹،ص۳۸۰.

3۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۴،ص۳۱۳.

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ، مطلب:طلب عند القاضی...إلخ،ج۹،ص۳۸۱.
Flag Counter