مسئلہ ۱۸: شفیع کے دعویٰ کرنے پر قاضی اس سے چند سوالات کریگا۔ وہ جائداد کہاں ہے اور اُس کے حدودِاربعہ کیا ہیں اور مشتری نے اس پر قبضہ کیا ہے یا نہیں اُس پر شفعہ کس جائداد کی وجہ سے کرتا ہے اور اس کے حدود کیا ہیں۔ اُس جائداد کے فروخت ہونے کا اس شفیع کو کب علم ہوا اور اس نے اس کے متعلق کیا کیا۔ پھر طلب تقریر کی یا نہیں۔ اور کن لوگوں کے سامنے طلب تقریر کی اور کس کے پاس طلب تقریر کی، وہ قریب تھا یا دور تھا۔ جب تمام سوالوں کے جوابات شفیع نے ایسے دے دیے جن سے دعویٰ پر برا اثر نہ پڑتا ہو تو اس کا دعویٰ مکمل ہوگیا اب مدعیٰ علیہ(1)سے دریافت کریگا کہ شفیع جس جائداد کے ذریعہ سے شفعہ کرتا ہے اُس کا مالک ہے یا نہیں اگر اُس نے انکار کر دیا تو شفیع کو گواہوں کے ذریعہ سے اُس جائداد کا مالک ہونا ثابت کرنا ہوگا یا گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعیٰ علیہ پر حلف دیا جائے گا گواہ سے یا مدعیٰعلیہ کے حلف سے انکارکرنے سے جب شفیع کی ملک ثابت ہوگئی تو مدعیٰعلیہ سے دریافت کریگا کہ وہ جائداد جس پر شفعہ کا دعویٰ ہے اس نے خریدی ہے یا نہیں اگر اُس نے خریدنے سے انکارکر دیاتو شفیع کو گواہوں سے اُس کا خریدناثابت کرناہوگا اور اگر گواہ نہ ہوں تومدعی ا علیہ پر پھر حلف پیش کیا جائے گا اگر حلف سے نکول کیا (2)یا گواہوں سے خریدنا ثابت ہوگیا تو قاضی شفعہ کا فیصلہ کر دے گا۔(3) (ہدایہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: شفعہ کا دعویٰ کرنے کے لیے یہ ضرور نہیں کہ شفیع ثمن کو قاضی کے پاس حاضر کر دے جب ہی اس کا دعویٰ سنا جائے اور یہ بھی ضرور نہیں کہ فیصلہ کے وقت ثمن قاضی کے پاس پیش کر دے جب ہی وہ فیصلہ کرے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: فیصلہ کے بعد اسے ثمن لاکر دینا ہوگا اور اگر ثمن ادا کرنے کو کہا گیا اور اس نے ادا کرنے میں تاخیر کی یہ کہہ دیا کہ اس وقت میرے پاس نہیں ہے یا یہ کہ کل حاضر کر دوں گا یا اسی قسم کی کچھ اور بات کہی تو شفعہ باطل نہ ہوگا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: فیصلہ کے بعد ثمن وصول کرنے کے لیے مشتری اُس جائداد کو روک سکتا ہے کہہ سکتا ہے کہ جب تک ثمن ادا نہ کرو گے یہ جائداد میں تم کو نہیں دوں گا۔ (6)(ہدایہ)