مسئلہ ۱۴: بائع و مشتری و جائداد مبیعہ ایک ہی شہر میں ہوں تو قرب و بعد کا اعتبار نہیں یعنی یہ ضرور نہیں کہ قریب ہی کے پاس طلب کرے بلکہ اُسے اختیار ہے کہ دور والے کے پاس کرے یا قریب والے کے پاس کرے ہاں اگر قریب کے پاس سے گزرا اور یہاں طلب اشہاد نہ کی دور والے کے پاس جاکر کی تو شفعہ باطل ہے اور اگر ان میں سے ایک اسی شہر میں ہے اور دوسرا دوسرے شہر میں یا گاؤں میں ہے اور اس شہر والے کے سامنے طلب نہ کی دوسرے شہر یا گاؤں میں اشہاد کے لیے گیا تو شفعہ باطل ہوگیا۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: طلب اشہاد کا طلب مواثبہ کے بعد ہونا اُس وقت ہے کہ بیع کا جس مجلس میں علم ہوا وہاں نہ بائع ہے نہ مشتری ہے نہ جائداد مبیعہ۔ اور اگر شفیع ان تینوں میں سے کسی کے پاس موجود تھا اور بیع کی خبر ملی اور اُسی وقت اپنا شفیع ہونا ظاہر کر دیا تو یہ ایک ہی طلب دونوں کے قائم مقام ہے یعنی یہی طلب مواثبہ بھی ہے اور طلب اشہاد بھی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: ان دونوں طلبوں کے بعد طلب تملیک ہے یعنی اب قاضی کے پاس جاکریہ کہے کہ فلاں شخص نے فلاں جائداد خریدی ہے اور فلاں جائداد کے ذریعہ سے میں اُس کا شفیع ہوں وہ جائداد مجھے دِلا دی جائے۔ طلب تملیک میں تاخیر ہونے سے شفعہ باطل ہوتا ہے یا نہیں، ظاہر الروایہ یہ ہے کہ باطل نہیں ہوتا اور ہدایہ وغیرہا میں تصریح ہے کہ اسی پر فتویٰ ہے اورامام محمد رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ بلاعذر ایک ماہ کی تاخیر سے باطل ہو جاتا ہے بعض کتابوں میں اس پر فتویٰ ہونے کی تصریح ہے اور نظر بحال زمانہ اس قول کو اختیار کرنا قرین مصلحت ہے کیونکہ اگر اس کے لیے کوئی میعاد نہ ہوگی تو خوف شفعہ کی وجہ سے مشتری نہ اُس زمین میں کوئی تعمیر کرسکے گا نہ درخت نصب کرسکے گا اور یہ مشتری کا ضرر ہے۔(3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: جوار (4)کی وجہ سے شفعہ کا حق ہے اور قاضی کا مذہب یہ ہے کہ جوار کی وجہ سے شفعہ نہیں ہے شفیع نے دعویٰ اس وجہ سے نہیں کیا کہ قاضی میرے خلاف فیصلہ کر دے گا اس انتظار میں ہے کہ دوسرا قاضی آئے تو دعوےٰ کروں اس صورت میں بالاتفاق اُس کا حق باطل نہیں ہوگا۔(5) (عالمگیری)