اُس نے ضرر(1)پہنچانے کا ارادہ کیا تھا اور نتیجہ یہ ہوا۔ یوہیں اگر اس کے پاس کے کسی شخص کو چھینک آئی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہا اس نے اُس کا جواب دیا شفعہ باطل نہ ہوا۔(2) (عالمگیری، ہدایہ)
مسئلہ ۵: بیع کی خبر ملنے پر اس نے دریافت کیا کہ کس نے خریدا یا کتنے میں خریدا یہ پوچھنا تاخیر میں شمار نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ثمن اتنا ہو جو اس کے نزدیک مناسب ہے تو شفعہ کرے اور زیادہ ثمن ہے تو اسے اُتنے داموں میں لینا منظور نہیں۔ یوہیں اگر مشتری کوئی نیک شخص ہے اُس کا پروس ناگوار نہیں ہے تو شفعہ کی کیا ضرورت اور ایسا شخص مشتری ہے جس کا قرب منظور نہیں ہے تو شفعہ کرنے کی ضرورت ہے لہٰذا یہ پوچھنا شفعہ سے اعراض کی دلیل نہیں۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۶: شفیع نے مشتری کو سلام کیا شفعہ باطل نہیں ہوا اور کسی دوسرے کو سلام کیا تو باطل ہوگیا مثلاًمشتری کا بیٹا بھی وہیں کھڑا تھا اس لڑکے کو سلام کیا باطل ہوگیا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: طلب مواثبہ کے لیے کوئی لفظ مخصوص نہیں جس لفظ سے بھی اس کا طالب شفعہ ہونا سمجھ میں آتا ہو وہ کافی ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۸: جو جائداد فروخت ہوئی ایک شخص اُس میں شریک ہے اور ایک اُس کا پروسی ہے دونوں کو ایک ساتھ خبر ملی شریک نے طلب مواثبہ کی پروسی نے نہیں کی پھر شریک نے شفعہ چھوڑ دیا اب پروسی کو شفعہ کا حق نہیں رہا یہ بھی اگر اُسی وقت طلب کرتا تو اب شفعہ کرسکتا تھا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: طلب مواثبہ کے بعد طلب اشہاد کا مرتبہ ہے جس کو طلب تقریر بھی کہتے ہیں اس کی صورت یہ ہے کہ بائع یا مشتری یا اُس جائداد مبیعہ(7)کے پاس جاکر گواہوں کے سامنے یہ کہے کہ فلاں شخص نے یہ جائداد خریدی ہے اور میں اس کا شفیع