مسئلہ ۱: جائداد کی بیع کا علم کبھی تو خود مشتری(1)ہی سے ہوتا ہے کہ اس نے خود اسے خبر دی اور کبھی مشتری کے قاصد کے ذریعہ سے(2)ہوتا ہے کہ اس نے کسی کی معرفت اس کے پاس کہلا بھیجا اور کبھی کسی اجنبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اس صورت میں یہ ضرور ہے کہ وہ مخبر(3) عادل ہو یا خبر دہندہ (4)میں عدد شہادت پایا جائے یعنی دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ خبر دینے والا ایک ہی شخص ہے اور وہ بھی فاسق ہے مگر شفیع(5)نے اس خبر میں اس کی تصدیق کر لی تو بیع کا علم ہوگیا یعنی اگر طلب مواثبہ نہ کریگا شفعہ باطل ہو جائے گا اور اگر اس کی تکذیب کی(6)تو شفیع کے نزدیک بیع کا ثبوت نہ ہوا یعنی طلب نہ کرنے پر حق شفعہ باطل نہ ہوگا اگرچہ واقع میں اُس کی خبر صحیح ہو۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: طلب مواثبہ میں ادنیٰ تاخیر بھی شفعہ کو باطل کر دیتی ہے مثلاً کسی خط کے ذریعہ سے اسے بیع کی خبر دی گئی اور اس خط میں بیع کا ذکر مقدم ہے اور اس کے بعد دوسرے مضامین ہیں یا بیع کا ذکر درمیان میں ہے اس نے پورا خط پڑھ کر طلب مواثبت کی شفعہ باطل ہوگیا کہ اتنی تاخیر بھی یہاں نہ ہونی چاہیے۔ (8)(ہدایہ)
مسئلہ ۳: خطبہ ہو رہا ہے اور اس کو بیع کی خبر دی گئی اور نماز کے بعد اس نے طلب مواثبت کی اگر ایسی جگہ ہے کہ خطبہ سن رہا ہے تو شفعہ باطل نہیں ہوا اور اگر خطبہ کی آواز اس کو نہیں پہنچتی تو شفعہ باطل ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔ نفل نماز پڑھنے میں اسے خبر ملی اسے چاہیے کہ دو رکعت پر سلام پھیر دے اور طلب مواثبت کرے اور چار پوری کر لی یعنی دو رکعتیں اور ملائیں تو باطل ہوگیا اور قبل ظہر یا بعد ظہر کی سنتیں پڑھ رہا تھا اور چار پوری کر کے طلب کیا تو باطل نہ ہوا(9)۔(10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: بیع کی خبر سن کر