مسئلہ ۲۱: ایک شفیع نے اپنا حق شفعہ دوسرے کو دے دیا مثلاًتین شخص شفیع تھے ان میں سے ایک نے دوسرے کو اپنا حق دے دیا یہ دینا صحیح نہیں بلکہ اس کا حق ساقط ہوگیا اور اس کے سوا جتنے شفیع ہیں وہ سب برابر کے حقدار ہیں بلکہ اگر دو شخص حقدار ہیں ان میں سے ایک نے یہ سمجھ کر کہ مجھے نصف ہی جائداد ملے گی نصف ہی کو طلب کیا تو اس کا شفعہ ہی باطل ہو جائے گا یعنی ضروری ہے کہ ہر ایک پورے کا مطالبہ کرے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: دو شخصوں نے اپنا مشترک مکان بیع کیا شفیع یہ چاہتا ہے کہ فقط ایک کے حصہ میں شفعہ کرے یہ نہیں ہوسکتا اور اگر دو شخصوں نے ایک مکان خریدا اور شفیع فقط ایک مشتری کے حصہ میں شفعہ کرنا چاہتا ہے یہ ہوسکتا ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: ایک شخص نے ایک عقد میں دو مکان خریدے اور شفیع دونوں میں شفعہ کرسکتا ہو تو دونوں میں شفعہ کرے یادونوں کو چھوڑے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک میں کرے اور ایک کو چھوڑے اور اگر ایک ہی میں وہ شفیع ہے تو ایک میں شفعہ کرسکتاہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مشتری(4)کے وکیل نے جائداد خریدی اور وہ ابھی اسی وکیل کے ہاتھ میں ہے تو شفعہ کی طلب وکیل سے ہوسکتی ہے اور وکیل نے موکل کو دے دی تو وکیل سے طلب نہیں کرسکتا بلکہ اس سے طلب کرنے پر شفعہ ہی ساقط ہو جائے گا کہ جس سے طلب کرنا چاہیے تھا باوجود قدرت شفیع نے اُس سے طلب کرنے میں دیر کی۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)