قائل نہ تھا اُس نے دعوے کو خارج کر دیا کہ شفعہ کا تجھے حق نہیں ہے پھر وہ غائب آیا اور اُس نے دوسرے قاضی کے پاس دعویٰ کیا جس کے مذہب میں پروسی کے لیے بھی شفعہ ہے یہ قاضی پورا مکان اسی شفعہ کرنے والے کو دلائے گا۔(1) (بدائع)
مسئلہ ۱۷: کسی کے مکان کا پرنالہ دوسرے کے مکان میں گرتا ہے یا اُس مکان کی نالی اس مکان میں ہے تو اُس کو اس مکان میں جوار (2)کی وجہ سے شفعہ کا حق ہے شرکت کی وجہ سے نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: شفعہ کا دعویٰ کیا اور قاضی نے اس کا حکم دے دیا اس کے بعد شفیع نے(4)جائداد لینے سے انکار کر دیا تو دوسرے لوگ جو اس کے بعد شفعہ کرسکتے تھے اُن کا حق باطل ہوگیا یعنی وہ لوگ اب شفعہ نہیں کرسکتے کہ بعد قضائے قاضی(5)اس کی مِلک مُتَقَرِّر ہوگئی اور اگر قاضی کے حکم سے قبل ہی یہ اپنے حق سے دست بردار ہوگیا تو دوسرے لوگ کرسکتے ہیں۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: بعض حقدار موجود ہیں بعض غائب ہیں جو موجود ہیں انھوں نے دعویٰ کیا تو ان کے لیے فیصلہ کر دیا جائے گا اس کا انتظار نہ کیا جائے گا کہ وہ غائب بھی آجائے کیونکہ آجانے کے بعد وہ مطالبہ کرے یا نہ کرے کیا معلوم لہٰذا اُس کے آنے تک فیصلہ کو مؤخر نہ کیا جائے۔ پھر اس غائب نے آنے کے بعد اگر مطالبہ کیا تو اس کی تین صورتیں ہیں۔ اگر اس کا مرتبہ اُس سے کم ہے جس کے لیے فیصلہ ہوا تو اس کا مطالبہ ساقط۔ اور برابر کا ہے یعنی اگر وہ شریک ہے تو یہ بھی شریک ہے یا دونوں خلیط ہیں یادونوں پروسی ہیں تو اس صورت میں دونوں کو برابر برابر جائداد ملے گی اور اگر اس کا مرتبہ اُس سے اونچا ہے یعنی مثلاًوہ خلیط یاپروسی تھا اور یہ شریک ہے تو کل جائداد اسی کو ملے گی۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: شفیع چاہتا ہے کہ جائداد مبیعہ(8)میں سے ایک حصہ لے لے اور باقی مشتری کے لیے چھوڑ دے اس کاحق شفیع کو نہیں یعنی مشتری کو اس کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جائداد کا یہ جز لینے میں مشتری اپناضرر تصور کرتا ہو۔ (9)(درمختار)