اوروہ مکان جس میں بالاخانہ کا راستہ ہے فروخت ہوا تو اُس میں بھی بالاخانہ والا شفعہ کرسکتا ہے۔ (1)(بدائع)
مسئلہ ۱۳: کوچہ سربستہ میں چند اشخاص کے مکانات ہیں ان میں سے کسی نے اپنا مکان یا کوئی کمرہ بیع کر دیا اور راستہ مشتری کے ہاتھ نہیں بیچا بلکہ مشتری سے یہ طے پایا کہ اس مکان کا دروازہ شارع عام(2)میں کھول لے اس صورت میں بھی اس کوچے کے رہنے والے شفعہ کرسکتے ہیں کیونکہ بوقتِ بیع یہ لوگ راستہ میں شریک ہیں اور اگر اس وقت ان لوگوں نے شفعہ نہ کیا اور مشتری نے دروازہ کھولنے کے بعد اس کو بیع کر ڈالا تو اب شفعہ نہیں کرسکتے کہ راستہ کی شرکت دوسری بیع کے وقت نہیں ہے بلکہ اب وہ شخص شفعہ کرسکتا ہے جو جار ملاصق ہو۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مکان کے دو دروازے ہیں ایک دروازہ ایک گلی میں ہے دوسرا دوسری گلی میں ہے اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ پہلے دو۲ مکان تھے ایک کا دروازہ ایک گلی میں تھا دوسرے کا دوسری گلی میں تھا ایک شخص نے دونوں کو خرید کر ایک مکان کر دیا اس صورت میں ہر گلی والے اپنی جانب کا مکان شفعہ کر کے لے سکتے ہیں ایک گلی والوں کو دوسری جانب کے حصہ کا حق نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب وہ مکان بنا تھا اُسی وقت اُس میں دو دروازے رکھے گئے تھے تو دونوں گلی والے پورے مکان میں شفعہ کا برابر حق رکھتے ہیں۔ یوہیں اگر دو گلیاں تھیں دونوں کے بیچ کی دیوار نکال کر ایک گلی کر دی گئی تو ہر ایک کوچہ والے اپنی جانب میں شفعہ کا حق رکھتے ہیں۔ دوسری جانب میں اُنھیں حق نہیں۔ اسی طرح کوچہ سربستہ تھا(4)اُس کی دیوار نکال دی گئی کہ سربستہ نہ رہا بلکہ کوچہ نافذہ ہوگیا تو اب بھی اس کے رہنے والے شفعہ کا حق رکھیں گے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: باپ کا مکان تھا اُس کے مرنے کے بعد بیٹوں کو ملا اور اُن میں سے کوئی لڑکا مرگیا اور اُس نے اپنے بیٹے وارث چھوڑے ان میں سے کسی نے اپنا حصہ بیع کیا تو اُس کے بھائی اور چچا سب شفعہ کرسکتے ہیں بھائیوں کو چچا پر ترجیح نہیں ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: مکان کے دو پروسی ہیں ایک موجود ہے دوسرا غائب ہے موجود نے شفعہ کا دعویٰ کیا مگر قاضی ایسے شفعہ کا