مسئلہ ۸: دیوار میں شرکت سے یہ مراد ہے کہ دیوار کی زمین میں شرکت ہو اور اگر زمین میں شرکت نہ ہو صرف دیوار میں شرکت ہو تو اس کو شریک نہیں شمار کیا جائے گا۔ دونوں کی صورتیں یہ ہیں ایک مکان کے بیچ میں ایک دیوار قائم کردی گئی پھر تقسیم یوں ہوئی کہ ایک شخص نے دیوار سے ادھر کا حصہ لیا اور دوسرے نے اُدھر کا اور دیوار تقسیم میں نہیں آئی لہٰذا دونوں کی ہوئی۔ اور اگر مکان کو تقسیم کر کے ایک خط کھینچ دیا پھر بیچ میں دیوار بنانے کے لیے ہر ایک نے ایک ایک بالشت زمین دے دی اور دونوں کے پیسوں سے دیوار بنی تو یہاں زمین میں بالکل شرکت نہیں ہے اگر شرکت ہے تو دیوار میں ہے اور دیوار و عمارت میں شرکت موجب شفعہ نہیں لہٰذا اس شرکت کا اعتبار نہیں بلکہ یہ شخص جار ملاصق ہے اور اسی حیثیت سے شفعہ کرسکتاہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: بیچ کی دیوار پر دونوں کی کڑیاں ہیں ا ور یہ معلوم نہیں کہ یہ دیوار دونوں میں مشترک ہے صرف اتنی بات سے کہ دونوں کی کڑیاں ہیں دیوار کا مشترک ہونا معلوم ہوتا ہے ان میں سے ایک کا مکان فروخت ہوا اگر دوسرے نے گواہوں سے دیوار کا مشترک ہونا ثابت کر دیا تو اس کو شریک قرار دیا جائے گا اور شفعہ میں اس کا مرتبہ جار سے مقدم ہوگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: یہ جو کہا گیا کہ شریک کے بعد جا رملاصق کا مرتبہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بیع کی خبر سن کر اس نے شفعہ طلب کیا ہو اور اگر اُس وقت اس نے شفعہ طلب نہ کیا اور شریک نے شفعہ تسلیم کر دیا یعنی بذریعہ شفعہ لینا نہیں چاہتا تو اب اُس جار کو شفعہ کرنے کا حق نہ رہا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: دو منزلہ مکان ہے نیچے کی منزل زید وعَمْرْو کی شرکت میں ہے اور اوپر کی منزل میں زید و بکر شریک ہیں اگر زید نے نیچے کی منزل بیع کی تو عَمْرْو شفعہ کرسکتا ہے، بکر نہیں اور اوپر کی منزل بیچی تو بکر شفعہ کرسکتا ہے عمرو نہیں۔ (4)(بدائع)
مسئلہ ۱۲: ایک مکان کی چھت پر بالاخانہ ہے مگر اس بالاخانہ کا راستہ دوسرے مکان میں ہے اُس مکان میں نہیں ہے جس کی چھت پر بالاخانہ ہے۔ یہ بالاخانہ (5)فروخت ہوا تو وہ شخص شفعہ کریگا جس کے مکان میں اس کا راستہ ہے وہ نہیں کرسکتا جس کے مکان کی چھت پر بالاخانہ ہے۔ اور اگر پہلے شخص نے تسلیم کر دیا نہ لینا چاہا تو دوسرا شخص شفعہ کرسکتا ہے مگر بالاخانہ کا کوئی جارِ ملاصق ہے تو شفعہ میں یہ بھی شریک ہے اور اگر نیچے کی منزل فروخت ہوئی تو بالاخانہ والا شفعہ کرسکتا ہے