کا جو کچھ ثمن ہے اُس کے ساتھ لے گا اور اگر بیع اول پر بنا کرے تو مشتری کے قبضہ کرنے کے دن جو اُس کی قیمت تھی وہ دینی ہوگی۔(۵)جس جائداد کے ذریعہ سے اس جائداد پر شفعہ کرنے کا حق حاصل ہوا ہے وہ اس وقت شفیع کی ملک میں ہو یعنی جبکہ مشتری نے اس شفعہ والی جائداد کو خریدا لہٰذا اگر وہ مکان شفیع کے کرایہ میں ہو یا عاریت کے طور پر اوس میں رہتا ہے تو شفعہ نہیں کرسکتا یا اس مکان کو اس نے پہلے ہی بیع کر دیا ہے تو اب شفعہ نہیں کرسکتا۔(۶)شفیع نے اوس بیع سے نہ صراحۃً رضامندی ظاہر کی ہو نہ دلالۃً۔ (1)
مسئلہ ۳: دو منزلہ مکان ہے اُس کی دونوں منزل میں شفعہ ہوسکتا ہے مثلاًاگر صرف بالاخانہ فروخت ہوا تو شفعہ ہوسکتا ہے اگرچہ اوس کا راستہ نیچے کی منزل میں نہ ہو۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۴: نابالغ اور مجنون کے لیے بھی حق شفعہ ثابت ہوتا ہے ان کا وصی یا ولی اس کا مطالبہ کریگا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: شفعہ کے ذریعہ سے جو جائداد حاصل کی گئی وہ اُسی کی مثل ہے جس کو خریدا ہے یعنی اس جائداد میں شفیع کوخیار رویت خیار عیب حاصل ہوگا جس طرح مشتری کو ہوتا ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۶: شفعہ کا حکم یہ ہے کہ جب اس کا سبب پایا جائے یعنی جائداد بیچی گئی تو طلب کرنا جائز ہے اور بعد طلب و اشہادیہ مؤکد ہو جاتا ہے اور قاضی کے فیصلہ یا مشتری کی رضامندی سے شفیع اُس چیز کا مالک ہو جاتا ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۷: مکان موقوف کے متصل کوئی مکان فروخت ہوا تو نہ واقف شفعہ کر سکتا ہے نہ متولی نہ وہ شخص جس پر یہ مکان وقف ہے کہ شفعہ کے لیے یہ ضرورت تھی کہ جس کے ذریعہ سے شفعہ کیا جائے وہ مملوک ہو اور مکان موقوف مملوک نہیں۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: زمین موقوف میں کسی نے مکان بنایا ہے اور اُس کے جوار میں کوئی مکان فروخت ہوا تو یہ شفعہ نہیں کرسکتا اور اپنی عمارت بیع کرے تو اس پر بھی شفعہ نہیں ہوسکتا۔ (7)(عالمگیری)