غیر منقول جائداد کو کسی شخص نے جتنے میں خریدا اُتنے ہی میں اُس جائداد کے مالک ہونے کا حق جو دوسرے شخص کو حاصل ہو جاتا ہے اس کو شفعہ کہتے ہیں۔ یہاں اس کی ضرورت نہیں کہ مشتری اس پر راضی ہو جب ہی شفعہ کیا جائے وہ راضی ہو یا ناراض بہرصورت جو حق دار ہے لے سکتا ہے۔ جس شخص کو یہ حق حاصل ہے اوس کو شفیع کہتے ہیں۔ مشتری نے مثلی چیز کے عوض میں جائداد خریدی ہے مثلاًروپے اشرفی پیسے کے عوض میں ہے تو اُس کی مثل دے کر شفیع لے لے گا اور اگر قیمی چیز ثمن ہے تو اُس کی جو کچھ قیمت ہے وہ دے گا۔
مسئلہ ۱: شفعہ وہ شخص کر سکتا ہے جس کی مِلک جائداد مبیعہ سے متصل ہے خواہ اُس جائداد میں شفیع کی شرکت ہو یا اس کا جوار(پروس)ہو۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲: شفعہ کے شرائط حسب ذیل ہیں۔ (۱)جائداد کا انتقال عقد معاوضہ کے ذریعہ سے ہو یعنی بیع یا معنی بیع میں ہو۔ معنی بیع مثلاً جائداد کو بدل صلح قرار دیا یعنی اُس کو دے کر صلح کی ہو اور اگر انتقال میں یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو شفعہ نہیں ہوسکتا مثلاً ہبہ، صدقہ، میراث، وصیت کی رو سے جائداد حاصل ہوئی تو اُس پر شفعہ نہیں ہوسکتا۔ ہبہ بشرط العوض میں اگر دونوں جانب سے تقابض بدلین ہوگیا تو شفعہ ہوسکتا ہے۔ اور اگر ہبہ میں عوض کی شرط نہ تھی مگر موہوب لہ نے عوض دے دیا مثلاً زید نے عَمْرْو کو ایک مکان ہبہ کر دیا اور عمرو نے زید کو اُس کے عوض میں مکان ہبہ کیا تو دونوں میں سے کسی پر شفعہ نہیں ہوسکتا۔ (3)(عالمگیری) (۲)مبیع عقار یعنی جائداد غیر منقولہ ہو منقولات میں شفعہ نہیں ہوسکتا۔ (۳)بائع کی ملک زائل ہوگئی ہو لہٰذا اگر بائع کو خیار شرط ہو تو شفعہ نہیں ہوسکتا جب وہ اپنا خیار شرط ساقط کر دے گا تب ہوسکے گا۔ اور مشتری کو خیار ہو تو شفعہ ہوسکتا ہے۔(۴)بائع کا حق بھی زائل ہوگیا ہو یعنی مبیع کے واپس لینے کا اُسے حق نہ ہو لہٰذا مشتری نے بیع فاسد کے ذریعہ سے جائداد بیچی تو شفعہ نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر مشتری نے اس جائداد کو بیع صحیح کے ذریعہ فروخت کر ڈالا تو اب شفعہ ہوسکتا ہے اور اس شفعہ کو اگر بیع ثانی پر بنا کرے تو بیع ثانی